آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم پہلی اننگز میں 313 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، ایک بار پھر ٹاپ آرڈر ناکام ہوا، محمد رضوان، سلمان علی آغا اور عامر جمال نے لڑکھڑاتی بیٹنگ لائن کو سنبھالا، تینوں کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچز کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ سڈنی میں کھیلا گیا پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری روز بھی قومی ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا، اوپنر عبداللہ شفیق 0.2 اوورز میں صرف بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹ گئے اور اسٹارک کی گیند پر اسمتھ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
Mitchell Marsh dismisses Shan Masood, but he's overstepped!
The Pakistan skipper gets another life ⤵ #AUSvPAK
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 3, 2024
صائم ایوب نے بھی کوئی جارحانہ اننگز نہ کھیلیں اور صرف دو رنز بنا کر ہیزل وڈ کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں کیچ تھما کر پویلین لوٹ گئے۔
بعدازاں بابر اعظم اور شان مسعود نے اسکور کو آگے بڑھایا، لیکن بابر اعظم بھی 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، پیٹ کمنز نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔
سعود شکیل بھی 5 رنز کے مہمان رہے، قومی ٹیم نے 100 سے زائد رنز بنالیے ہیں۔
محمد رضوان نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے نصف سنچری اسکور کرلی لیکن وہ 103 گیندوں پر 88 رنز بنا کر پیٹ کیومنز کی گیند پر جوش ہیلزوڈ کو کیچ دے بیٹھے۔
ساجد خان 15 رنز بنا کر پیٹ کیومنز کی گیند پر نتھن لیون کو کیچ دے بیٹھے۔
سلمان علی آغا نے بھی 66 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی اور مچل اسٹارک کی گیند پر ٹریوس ہیڈ کو کیچ دے بیٹھے، جس کے یکے بعد حسن علی بغیر کوئی رن بنائے آوٹ ہوگئے۔
اس دوران ساجد خان بھی 15 رنز بنا کر پیٹ کیومنز کا شکار بنے۔
بعدازاں عامر جمال نے ذمہ درانہ اننگز کھیلی اور نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے 82 رنز کی اننگز کھیلیں لیکن بدقسمتی سے سنچری اسکور نہ کرسکے اور نتھن لیون کی گیند پر مچل اسٹارک کو کیچ دے بیٹھے۔
میر حمزہ 7 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے، پوری ٹیم نے مجموعی طور پر 313 رنز کی اننگز کھیلی۔
آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز 5 وکٹیں لے کر نمایاں باؤلر رہے
The highest score by a Pakistan batter in the series 👏
Mohammad Rizwan fell short of a 💯 but he did well by taking on Australia's bowlers 🔥 https://t.co/h8aPNxNQZ0 #AUSvPAK pic.twitter.com/5UdYjjfks2
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 3, 2024









