اسلام آباد: حکومت نے ہارون اختر کی وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار کی حیثیت سے تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہارون اختر کو وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہوگا اور وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ صنعت و پیداوار کا قلمدان بھی ہارون اختر کے پاس رہے گا۔
ہارون اختر کی تقرری صدرِ پاکستان کی جانب سے کی گئی ہے۔ ان کا شمار کاروباری، صنعتی اور عوامی شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔
ہارون اختر دو مرتبہ سینیٹر جبکہ دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے 2006 سے 2012 تک سینیٹر کی حیثیت سے مختلف قائمہ کمیٹیوں میں سینئر رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ان قائمہ کمیٹیوں میں خزانہ، اقتصادی امور، محصولات، شماریات، منصوبہ بندی و ترقی، تجارت، صنعت و پیداوار، پیٹرولیم، قدرتی وسائل و معدنیات، کھیل، ثقافت اور سیاحت سمیت اہم شعبے شامل تھے۔
2015 سے 2018 تک ہارون اختر معاون خصوصی برائے محصولات کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، اس دوران انہیں وفاقی وزیر کا درجہ حاصل تھا۔
ہارون اختر نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف مینی ٹوبا سے ایکچوریل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سوسائٹی آف ایکچوریز امریکا اور کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکچوریز کے فیلو بھی ہیں۔
پاکستان واپسی سے قبل انہوں نے امریکا اور کینیڈا میں کارپوریٹ گورننس، معاشیات، منصوبہ بندی، پیش گوئی، ماڈلنگ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کام کیا۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کاروباری اور صنعتی شعبے سے وابستگی کے باعث ہارون اختر کو معیشت، صنعت، کاروبار اور حکومتی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور ریگولیٹرز کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور صنعتی شراکت داری کے فروغ کے لیے بھی کردار ادا کیا ہے۔









