بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

لگتا ہے کچھ زیادہ ہی سستا ہوگیا، بھارتی ڈیزل اور پیٹرول میں پراٹھے تلنے لگے

پراٹھے کھانے کے شوقین افراد پاکستان سمیت بھارت میں بھی موجود ہیں جن کا ناشتہ اس کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔

پنجاب میں مختلف اقسام کے پراٹھے کھائے جاتے ہیں مگر آپ کو یہ بات جان کر حیرانی ہوگی کہ بھارتی مشرقی پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ میں موجود ایک ڈھابے میں پٹرول اور ڈیزل سے تیار کردہ پراٹھے بنائے جا رہے ہیں جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکس اکاؤنٹ ”@nebula_world“ پر مذکورہ ڈھابے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی، جس میں پیٹرول اور ڈیزل سے پراٹھے تیار ہو رہے ہیں۔

ویڈیو میں موجود شخص دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اس پیٹرول ڈیزل پراٹھے کا ذائقہ کچوری جیسا ہے۔

ویڈیو میں ڈھابے کا باورچی پورے اعتماد سے کہتا ہے کہ وہ حقیقت میں پراٹھا بنانے میں پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال کررہے ہیں۔

وہ ایک کین سے فیول توے پر انڈیلتا ہے اور ویڈیو بنانے والا بار بار اس سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ واقعی پیٹرول ہے؟ جس پر باورچی کہتا ہے کہ بالکل یہ پیٹرول ہی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈھابے کا باورچی پراٹھے کو ڈیزل میں اتنا پکاتا ہے اس کا رنگ سیاہ ہوجاتا ہے۔ جسے وہ پلیٹ میں ڈال کر ویڈیو بنانے والے شہری کی طرف بڑھا دیتا ہے اور اس کا ذائقہ چکھنے کو کہتا ہے۔

مذکورہ ویڈیو 12 مئی کو پوسٹ کی گئی جو آگ کی طرح وائرل ہوگئی جسے اب تک 5 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔

ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مزے مزے کے تبصرے بھی کئے جا رہے ہیں۔

ایک صارف نے پراٹھے میں ڈیزل کی موجودگی پر امریکی حملے سے خبردار کیا۔

تو ایک صارف نے لکھا کہ چلو کم سے کم پراٹھے بنانے والے نے سر پر ہئیر نیٹ تو پہنا ہوا ہے۔

ایک صارف نے تھوڑا سائنسی دماغ لگایا اور لکھا کہ ’ڈیزل میں آگ لگنے کیلئے درجہ حرارت 210 ڈگری سینٹی گریڈ ہنا چاہئیے اور اس کا فلیش پوائنٹ 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے 96 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے جبکہ توے کا درجہ حرارت 300 سے 400 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، یہ عجیب بات ہے کہ ڈیزل کو آگ نہیں لگ رہی‘۔