روسی صدر ولادیمیر پوتن 31 اگست سے 5 ستمبر تک چین اور روس کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے، جس دوران وہ ایک درجن سے زائد عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر عالمی رہنما شامل ہوں گے۔
صدر پوتن کا شیڈول اس دورے میں خاصا مصروف ہوگا، جیسا کہ روسی صدر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور شنگھائی تعاون تنظیم پلس کے اجلاسوں میں شریک ہوں گے۔ اس دوران ان کے دورے میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان بھی زیر غور ہے۔ اس دورے کے اختتام پر تیانجن اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں انسداد دہشت گردی اور منشیات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے معاہدے متوقع ہیں۔
پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات بھی متوقع ہیں، جن میں توانائی اور گیس کے منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔ 3 ستمبر کو پوتن بیجنگ میں فتح کی سالگرہ پریڈ میں مرکزی مہمان کی حیثیت سے شرکت کریں گے، جہاں وہ شی جن پنگ کے دائیں اور کم جونگ اُن کے بائیں طرف بیٹھیں گے۔
پوتن 5 ستمبر کو روس کے مشرقی اقتصادی فورم میں اہم خطاب کریں گے، جس میں 70 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس فورم میں روس، چین، روس، بھارت اور روس، آسیان بزنس ڈائیلاگ بھی ہوں گے۔
صدر پوتن کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ عالمی سطح پر روس کی سفارتی پوزیشن کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔









