بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خاتون اغوا کیس: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر اظہارِ برہمی

لاہور (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ والدین نے بچوں کا اندراج نادرا میں کیوں نہیں کروایا، اگر نادرا میں بچوں کو ریکارڈ موجود ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے ٹریس ہو جاتے، والدین کیوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے آگاہ کیا کہ ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے علاقوں میں ٹیمیں بھیجی ہیں، ہیومن ٹریفکنگ کے اینگل سے بھی کیس پر تفتیش کی ہے، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ کی ٹیم تفتیش کر رہی ہے؟

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ڈی آئی جی نے بتایا کہ تین مختلف جگہوں پر ہماری ٹیمز موجود ہیں، اس وقت جن پولیس افسران نے پہلے رسپانڈ کیا ان سے بھی دوبارہ پوچھ گچھ کی، عدالت نے پوچھا کہ آپ کی ٹیم جو جامشورو گئی ہوئی ہے اس کے لیے کتنا ٹائم چاہئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں کسی نے بھی اس خاتون کو دیکھا نہ ہو۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

عدالت کو ڈی آئی جی نے کہا کہ ایک ٹک ٹاک اکاونٹ کو دیکھا جس پر اس خاتون کی تصویر لگی ہوئی تھی، یہ ایک کانسٹیبل کا اکاونٹ تھا جس نے بطور مزاح یہ تصویر وہاں اپلوڈ کی تھی۔

عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ یہ اکاونٹ کب بنا اور یہ تصویر اس پر کب لگی، یہ پولیس اہلکار ہے تو اس سے تفتیش کا طریقہ کار بھی مختلف ہی ہو گا، میں نے صرف یہ پوچھا کہ ٹک ٹاک اکاونٹ کب بنا، آپ نے کہا چھ ماہ پہلے، ایک پولیس آفیسر کیسے لڑکی کی تصویر کو ٹک ٹاک پر لے کر آیا۔

عدالت نے مزید پوچھا کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر کیسے موجود تھی؟ کیا آپ لوگوں کا ریکارڈ محفوظ نہیں ہے؟ کیا حساس ریکارڈ ہر ایک کی رسائی میں ہوتا ہے؟ آپ خواتین کا مذاق بناتے ہیں اور پھر ریکارڈ کو استعمال کرتے ہیں؟ آپ جنرل پبلک کی طرف ڈھونڈ رہے ہیں کبھی اپنی طرف بھی دیکھ لیا کریں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سارے کیس کی فائل میرے حوالے کریں، پہلے میں کیس کی ساری فائل دیکھوں گی پھر تاریخ دوں گی۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیئے ملتوی کر دی۔