پاکستانی مصنوعات کی جرمنی میں برآمدات میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سلسلے میں، جرمن حکومت کے گرین پاکستان پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے جرمن “ڈیو ڈیلیجنس ایکٹ” کے تحت اپنی سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر لی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ 300 جرمن درآمد کنندگان تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصلر برائے کمرشل اینڈ اکنامک افیئرز، مسز اینا کلاس نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان معاشی شراکت داری مضبوط اور دیرپا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی جرمنی میں زبردست مانگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے ٹیکسٹائل سیکٹرز کے درمیان تعلقات کافی گہرے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “اگر پاکستان اور جرمنی مل کر کام کریں تو ہمارا مستقبل مزید پائیدار اور روشن ہوگا۔ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز جرمن امپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ فعال رابطے میں ہیں۔”
ورکشاپ کے دوران گرین پاکستان پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل اریڈز نے بتایا کہ پراجیکٹ کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان کو 12 مختلف سرٹیفکیشن کے تقاضوں کے مطابق یورپی مارکیٹ تک رسائی میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ پراجیکٹ 2025 کے آغاز سے فعال ہے اور اس سال کے اختتام تک جاری رہے گا۔
ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ جرمن حکومت نے گرین پاکستان پراجیکٹ کے لیے ایک “ڈیش بورڈ” بھی تیار کیا ہے، جس میں وہ صنعتیں شامل ہوں گی جنہوں نے سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کی ہیں۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے نہ صرف پاکستانی ایکسپورٹرز جرمنی کے 300 درآمد کنندگان سے براہِ راست رابطہ قائم کر سکیں گے بلکہ ان کے لیے برآمدی آرڈرز حاصل کرنے کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔
یہ اقدام پاکستانی مصنوعات خصوصاً ٹیکسٹائل اور ٹاول کی برآمدات کے فروغ میں اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔
جرمنی کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ، 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر لیں








