بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی کو آنکھ میں انفیکشن نہیں، سینٹرل ریٹینا وین آکلوژن ہے: ڈاکٹر خرم مرزا

اسلام آباد ( طارق محمود سمیر)بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر خرم مرزا نے فیکٹری ناکہ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بانی کو آنکھ میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ انہیں سینٹرل ریٹینا وین آکلوژن (CRVO) کا مسئلہ درپیش ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا تھا کہ یہ ریٹینا سے متعلق بیماری ہے اور اس کی مکمل نوعیت معائنہ کیے بغیر بتانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق جن ڈاکٹرز نے اب تک بانی کا علاج کیا ہے، انہوں نے درست علاج کیا ہے، تاہم وہ خود اس کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ CRVO کے علاج میں بنیادی طور پر آنکھ کے اندر انجیکشن لگانے کی ضرورت ہوتی ہے، جو کسی عام جگہ پر نہیں بلکہ صرف اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ہی لگایا جا سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بانی کو ایک انجیکشن لگ چکا ہے، جبکہ عموماً ایک ماہ بعد دوسرا اور پھر تیسرا انجیکشن درکار ہوتا ہے۔ بعض کیسز میں مزید انجیکشنز اور لیزر ٹریٹمنٹ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق اصل صورتحال آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی واضح ہو سکتی ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ریٹینا میں سوجن کتنی ہے اور علاج کی فوری ضرورت کس حد تک ہے۔ بروقت اور درست علاج پلان کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریٹینا کے ماہر ہیں اور معائنے کے بعد ہی کسی علاج کی تجویز دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مطابق CRVO میں کوئی آپریشن نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مسلسل علاج کا عمل ہے جس میں بعض اوقات تین سال تک باقاعدہ فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔ اس بیماری میں آنکھ میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے اور آنکھ کا پریشر بڑھ سکتا ہے، جبکہ بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر خرم مرزا نے خبردار کیا کہ اگر CRVO کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بینائی متاثر ہو سکتی ہے، اسی لیے مریض کا ریگولر چیک اپ بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں موجود تشخیصی سہولیات اور ٹیسٹ یہاں ممکن نہیں، اس لیے مکمل تشخیص کے لیے اسپتال کا ماحول ضروری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ بانی کے معائنے کے لیے ضروری آلات ساتھ لائے ہیں، تاہم مکمل سامان لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بانی کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ انہیں کس نوعیت کے علاج کی ضرورت ہے۔