پاکستان (Pakistan) میں گاڑیاں تیار کرنے والی ایک بڑی غیر ملکی کمپنی نے آئندہ چار سے پانچ سال کے دوران 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے کی تیاری ظاہر کر دی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انڈس موٹرز کے سی ای او علی اصغر جمالی نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں جدید الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی لانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس مقصد کے لیے حکومت کو پانچ سال کے بجائے دس سالہ واضح اور مستحکم آٹو پالیسی متعارف کرانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کے لیے پالیسی میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مکمل طور پر واضح اور طویل المدتی بنایا جائے تاکہ سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی کر سکیں۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 6 فیصد تک فوری کمی کا اعلان
علی اصغر جمالی کے مطابق ٹویوٹا آئندہ پانچ سال میں پاکستان میں 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، جبکہ الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی مستقبل کی ضرورت ہے اور دنیا تیزی سے اس جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی بھی جلد پاکستان میں ای وی گاڑیاں لانچ کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ شرح سود میں کمی کے باعث گزشتہ تین برسوں میں آٹو فنانسنگ میں دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ گاڑیوں کے لیے بینک قرضے کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ گاڑیاں تیار کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے خام مال کی مقامی صنعت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ کم لاگت پر گاڑیاں تیار ہو سکیں اور ان کی قیمتیں بھی مناسب رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کرنے چاہییں جہاں پاکستانی گاڑیوں پر کم ٹیکس عائد ہو، تاکہ برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔









