تاجر برادری (Business community) اور صنعتکاروں نے کہا ہے کہ ملک میں انڈسٹری اس وقت ایل این جی بحران اور توانائی کی بلند قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
فیڈریشن ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران بزنس کمیونٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ سینکشن شدہ 22 ہزار میگاواٹ کے لوڈ کے مقابلے میں صرف 3 ہزار میگاواٹ بجلی کا استعمال ہو رہا ہے، جو صنعتی پیداوار میں بڑی رکاوٹ ہے۔
صنعتکاروں نے مطالبہ کیا کہ دکانوں کے اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھائے جائیں اور بلوچستان کے گیس ذخائر کو مؤثر طور پر استعمال میں لایا جائے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم انٹرا پارٹی انتخابات سے لاعلم تھے، مصطفیٰ کمال
ایس ایم تنویر نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بجلی کے نرخوں میں 20 گنا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث صنعتیں عالمی مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مجموعی طور پر 41 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے اور صنعتیں اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام نہیں کر پا رہیں۔
فیڈریشن کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ گیس اور بجلی کے بلند ٹیرف کی وجہ سے پاکستانی صنعتیں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
ایف پی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ برآمدات میں 7 ارب ڈالر تک کمی کا خدشہ موجود ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر 30 اپریل کو شیڈو بجٹ اور پانچ سالہ معاشی منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔









