بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چین میں پہلی انسائیکلوپیڈیا کانفرنس، علم کے فروغ پر زور

چین کے دارالحکومت بیجنگ(Beijing) میں 23 سے 24 اپریل کے دوران پہلی چائنا انسائیکلوپیڈیا کانفرنس کاانعقاد ہوا، جس کی میزبانی انسائیکلوپیڈیا آف چائنا پبلشنگ ہاؤس نے کی۔ یہ تقریب قومی ریڈنگ ویک کی سرگرمیوں کا حصہ تھی، جو عوام میں مطالعے کے فروغ کے لیے ریاستی کونسل کے نئے ضابطے کے بعد منعقد کی گئی۔

انسائیکلوپیڈیا آف چائنا کو ملک کا پہلا اور سب سے مستند جدید جامع انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ 1978 میں شروع ہوا اور اسے چین پبلشنگ گروپ کے تحت انسائیکلوپیڈیا آف چائنا پبلشنگ ہاؤس نے شائع کیا۔ اسے چین کے اہم قومی ثقافتی منصوبوں میں ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا کے تیسرے ایڈیشن نے ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے جس کے تحت آن لائن ورژن کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ مختصر پرنٹ ایڈیشن بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ایک ایسا علمی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے جس میں پیشہ ورانہ، موضوعاتی اور عمومی حصے شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 2025 کے اختتام تک اس کا آن لائن ورژن 5 لاکھ 19 ہزار سے زائد اندراجات پر مشتمل ہو چکا تھا، جبکہ پرنٹ ایڈیشن 43 جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ پیش رفت اس منصوبے کی وسعت اور اثر کو ظاہر کرتی ہے۔

مزیدپڑھیں:بلوچستان کیلئے ایران سے 204 میگاواٹ بجلی کے معاہدے کی منظوری

انسائیکلوپیڈیا آف چائنا (تیسرا ایڈیشن) کے چیف ایڈیٹر یانگ موزی کے مطابق اس منصوبے میں 60 ہزار سے زائد ماہرین اور اسکالرز نے حصہ لیا، جس کے نتیجے میں یہ انسائیکلوپیڈیا چینی ثقافت اور علمی صلاحیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔

چائنا پبلشنگ گروپ کے جنرل منیجر اور پارٹی کمیٹی کے نائب سیکرٹری ماو یوآن شینگ نے کانفرنس کے مرکزی فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم علم کو عام کرنے اور عوام تک مستند معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع “Empowering Thousands of Industries, Reaching Thousands of Households” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علم کو مختلف شعبوں اور عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور بگ ڈیٹا جیسی جدید ٹیکنالوجیز نے علم کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، جس سے معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور وسیع ہو گئی ہے۔