سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی (Raza Rabbani) نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت کسی نئی آئینی ترمیم، خصوصاً 28ویں آئینی ترمیم، کی ضرورت نہیں۔
اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ آئین مزید متنازع آئینی ترامیم کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پہلے ہی آئین کی کئی اہم شقوں، خاص طور پر عدلیہ سے متعلق دفعات، کو متاثر کر چکی ہیں۔ ان کے بقول ان ترامیم نے آئینی توازن اور عدالتی خودمختاری کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
مزید پڑھیں؛28ویں آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، رضا ربانی
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ کسی جج کو اس کی رضامندی کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا عدلیہ کی آزادی کے اصول کے منافی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان آئینی ترامیم پر سامنے آنے والے عوامی اور قانونی ردِعمل کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو تمام متعلقہ سیاسی اور آئینی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اداروں کے درمیان توازن اور آئینی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔
سابق چیئرمین سینیٹ نے نئے صوبوں کے قیام اور صوبائی خودمختاری جیسے حساس معاملات پر بھی محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کو چھیڑنے سے پہلے وسیع قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔









