ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا مذاکرات میں مسلسل رکاوٹیں(amrican distrubed the dialogues) ڈال رہا ہے اور اپنا مؤقف بدل رہا ہے، ایران نے واضح کیا ہے وہ اپنی ریڈ لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں، اسی مسئلے پر اختلافات اب تک کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران صرف کاغذی وعدوں یا مبہم یقین دہانیوں کو قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی نیوزایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے ابھی تک جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا،جوہری مذاکرات کیلئے 60 دن کی مدت مقرر کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات کیلئے 30 دن کی مدت مختص کی جائے گی،ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو لبنان میں جنگ ختم کرنا ہوگی،ممکنہ مفاہمتی یادداشت میں واشنگٹن ایران کے تیل پر عائد پابندیاں ختم یا معطل کریگا۔
ایرانی نیوزایجنسی کےمطابق معاہدہ طے پایا توآبنائےہرمزکی صورتحال جنگ سےپہلےکی حالت میں واپس نہیں آئےگی۔
معاہدے میں یہ شرط بھی ہےایران کےمنجمد اثاثوں کی پہلی قسط جاری کی جائے، منجمد اثاثوں کےدوسری قسط سے متعلق طریقہ کار مذاکرات کے دوران واضح ہونا چاہیے
مزید پڑھیں:حکومت نے ڈیزل لیوی 52 روپے فی لیٹر سے 58 روپے فی لیٹر کردی
امریکا ایران مفاہمتی مسودے میں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی شرط بھی شامل ہے،جواب میں ایران بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں پرحملہ نہیں کرے گا۔









