پاکستان (Pakistan) کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے ابتدائی مسودے کے کچھ نکات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس ابتدائی اور غیر رسمی ڈرافٹ میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز شامل ہیں۔
مسودے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا، جبکہ امریکا اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے اور بحری پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمد و رفت اس مجوزہ معاہدے کا حصہ نہیں ہوگی، جبکہ اس خطے میں بحری ٹریفک کا انتظام ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ فریم ورک ابھی حتمی شکل میں نہیں آیا، کیونکہ ایران کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد سے قبل عملی اور قابلِ تصدیق ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق یہ عمل ایک کثیر سطحی امن منصوبے کا حصہ ہے، جس میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے طور پر منظور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس میں صرف تعینات افواج شامل ہوں گی یا بیرونی اڈوں پر موجود اہلکار بھی اس میں آئیں گے۔









