سپریم کورٹ (Supreme Court) نے تیزاب گردی کے ایک کیس میں مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تیزاب گردی کو ایک نہایت سنگین اور انسانیت سوز جرم قرار دیا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ایسے جرائم میں کم عمری کو ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تیزاب کا حملہ صرف جسمانی نہیں بلکہ متاثرہ شخص کی پوری زندگی کو متاثر کرتا ہے، اور یہ جرم قتل سے بھی زیادہ اذیت ناک نتائج رکھتا ہے کیونکہ اس کے اثرات مستقل ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو ہدایت دی کہ تیزاب گردی کے تمام مقدمات کا ٹرائل ہر صورت چار ماہ کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف مل سکے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیسز کی خود نگرانی کی جائے۔
مزید پڑھیں؛سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے مہاجر نشستوں پر حکومت کا مؤقف درست قرار دے دیا
فیصلے میں عام دکانوں پر تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے، جبکہ تیزاب کی خرید و فروخت کو بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل نظام کے تحت لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ متاثرین کی مدد کے لیے “قومی بحالی فنڈ” قائم کیا جائے، جس کے ذریعے ان کے علاج، پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی بحالی کے تمام اخراجات برداشت کیے جائیں۔ مستقل معذوری کی صورت میں مالی معاونت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ افراد کو خصوصی معذوری سرٹیفکیٹ، تعلیمی و سرکاری اداروں میں کوٹہ اور ماہانہ وظیفہ دیا جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔
عدالت نے فیصلے کی نقول تمام متعلقہ اداروں، ہائی کورٹس، وزارت قانون اور صوبائی حکام کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔









