نذیر احمد چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) (Nazir Ahmed) نے کہا ہے کہ ادارہ اب صرف علامتی معاہدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی اور سخت اقدامات کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والوں کی شناخت اب اخبارات میں ان کی تصاویر کے ساتھ شائع کی جائے گی تاکہ ایسے عناصر کو عوامی سطح پر بے نقاب کیا جا سکے۔
چیئرمین نیب کے مطابق بزنس کمیونٹی کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کی وہ حقدار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف چیمبرز اور بزنس فورمز سے موصول ہونے والے کیسز میں سے بڑی تعداد کو حل کیا گیا ہے، جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی اصلاحات کا جامع منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد شفافیت اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق آئندہ پراپرٹی ٹرانزیکشنز کو تین فریقوں تک محدود کیا جائے گا اور نقد لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزیدپڑھیں؛نیب کراچی کی کارروائی: ماریشس میں 4.5 ملین ڈالر کے بینک اکاؤنٹس منجمد
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ جائیداد کے ہر پلاٹ کو بارکوڈ کے ذریعے شناخت دی جائے گی تاکہ کسی قسم کی جعلی فائل یا فراڈ کا امکان باقی نہ رہے۔ ان کے مطابق رئیل اسٹیٹ سے متعلق تمام منظوریوں کو ایک ہی جگہ پر لانے پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ریکوری کی ہے اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوان عناصر کے خلاف سخت رویہ اپنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ادارے کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔









