بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جوس کمپنیوں کے خلاف بڑا انکشاف، آم کے گودے کی جگہ مصنوعی فلیور کا استعمال

پاکستان(Pakistan) میں آم سے تیار کیے جانے والے جوسز(Juices) کے معیار سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ متعدد جوس تیار کرنے والی کمپنیاں آم کے اصل گودے کے بجائے مصنوعی فلیور اور ذائقوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ کمیٹی کے اراکین نے اس عمل کو عوامی صحت، خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے تشویشناک قرار دیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اجلاس کے دوران اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی فلیورز اور غیر معیاری اجزاء پر مشتمل مشروبات بچوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے جوس انڈسٹری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی سخت نگرانی اور معیار کی جانچ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آم کی پیداوار، جوس انڈسٹری کی صورتحال، زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز، کھاد کی قیمتوں اور زرعی برآمدات سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مزیدپڑھیں:بلاول نے بہتر مہم چلائی، شہباز، آخر بیٹا کس کا ہے؟ زرداری کا جواب

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس موقع پر پاکستان مینگو ایسوسی ایشن کے صدر ملک جہانزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سیزن کے دوران ملک میں آم کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں آم کی پیداوار تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار ٹن تک کم ہوئی ہے، جس کی بڑی وجوہات موسمی تبدیلیاں، شدید گرمی اور دیگر ماحولیاتی عوامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیداوار میں کمی کے باعث نہ صرف مقامی مارکیٹ متاثر ہوگی بلکہ آم کی برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے زرِمبادلہ کے حصول میں کمی آ سکتی ہے۔

کمیٹی نے آم کی پیداوار میں کمی اور جوس انڈسٹری میں مبینہ طور پر مصنوعی اجزاء کے استعمال کے معاملے پر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور محفوظ غذائی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔