اسلام آباد ( اصغر چوہدری ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی کارکردگی اور بار بار بدلتی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔کمیٹی نے ضبط شدہ مال نجی شعبے کے ذریعے نیلامی کی منظوری دے دی۔
ہفتہ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی بجٹ، ٹیکس پالیسیوں اور کسٹمز قوانین میں ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ہر سال نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔
پچھلے دس سال کے دوران کئی تبدیلیاں کی گئیں اور پھر انہیں واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے تجربات کیوں کیے جاتے ہیں جن کے درست نتائج ہی حاصل نہیں ہوتے؟ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے ایک نیا ‘ٹیکس پالیسی آفس’ قائم کیا ہے، جس پر سلیم مانڈوی والا نے ریمارکس دیے کہ ٹیکس پالیسی آفس کا قیام بھی ایک نیا تجربہ ہی ہے۔
مزیدپڑھیں:کینسر کی مریضہ سے 27 کروڑ کا فراڈ، ن لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کے خلاف 3 مقدمات درج
اس موقع پر سینیٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ ملک میں عائد ‘سپر ٹیکس’ پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے بھی ایف بی آر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی ٹیکس وصولی ایف بی آر سے بہتر ہو رہی ہے اور یہ علم نہیں کہ ایف بی آر اپنے ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کر پائے گا یا نہیں۔ممبر ایف بی آر حامد عتیق سرور نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا رہا ہے اور پورٹ پر برآمدات کے لیے نئے اسکینرز لگائے جا رہے ہیں۔
تاہم، چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود پورٹس کا دورہ کیا ہے اور وہاں کی حالت انتہائی بری ہے۔اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار مانگا گیا، جس کی سینیٹر انوشہ رحمان نے سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے اور اسے ایف بی آر کو نہیں دینا چاہیے۔
یہ اختیار اب ایف بی آر کی بجائے وزیر خزانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اسی طرح کسٹمز حکام کی جانب سے اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطگی کا اختیار بھی مانگا گیا۔ سلیم مانڈوی والا نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا اختیار مانگا جا رہا ہے، جس کے تحت کسی بھی گاڑی کو ضبط کیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے کسٹمز کی اس تجویز کو مسترد کر دیا،کمیٹی نے کسٹمز حکام کی جانب سے سرکاری ویئر ہاؤس سے چوری کی صورت میں عملے کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز کی حمایت کی۔ کسٹمز حکام کا اعتراف تھا کہ پہلے ایسے واقعات پر سخت سزائیں موجود نہیں تھیں۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سامان کی کلیئرنس میں تاخیر پر کسٹمز عملے کے خلاف بھی سزا ہونی چاہیے۔پورٹ پر سامان کی کلیئرنس میں تاخیر کی 90 فیصد وجہ خود کسٹمز ہے۔
تاخیر کو ختم کرنے کے لیے کسٹمز کے فیصلہ کرنے کی ایک مخصوص مدت مقرر ہونی چاہیے کیونکہ برآمد کنندگان (Exporters) کے مسائل کسٹمز سے ہی شروع ہوتے ہیں۔سینیٹر عبدالقادر نے مزید اضافہ کیا کہ مال کی بروقت کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے امپورٹرز پر جرمانہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ بعد میں اپنا مال اٹھانے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔اجلاس کے دوران ایف بی آر نے تجویز پیش کی کہ ضبط شدہ مال کی نیلامی (Auction) کا کام کسٹمز افسران کی بجائے تھرڈ پارٹی یعنی نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔ کمیٹی نے غور و خوض کے بعد ایف بی آر کی اس تجویز کی منظوری دے دی۔









