بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کا بطور عالمی امن سفیر کردار نمایاں

اسلام آباد ( طارق محمود سمیر ) ایران (Iran)اور امریکہ(United States) کے درمیان پاکستان کی تاریخی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امن معاہدے پر نہ صرف اتفاق ہو گیا ہے بلکہ دونوں ممالک کی قیادت نے الیکٹرانک دستخط بھی کر دیئے ہیں جس سے نہ صرفخطے بلکہ دنیا بھر میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے

پاکستان دنیا میں امن کا پرچم لے کر نکلنے والا ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے اور اب پاکستانی قیادت کے لیے امن ایوارڈ کا اعلان ہونا چاہیے اور جس طریقے سے غزہ میں امن معاہدے کے موقع پر پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا تواب امریکی صدر اور ایرانی صدر پر یہ لازم ہے کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کریں

پاکستان نے اس سارے عرصے کے دوران امن کے لیے بہت کوششیں کیں کئی مرتبہ صورتحال بہت خراب ہوئی لیکن پاکستان کی قیادت نے امن کی کوششوں کو جاری رکھا تمام ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے باالخصوص ایران اور امریکہ کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے رہے جہاں بھی مشکل صورتحال پیدا ہوئی وہاں نہ صرف ٹیلیفونک رابطے کیے گئے بلکہ پاکستانی قیادت ان ممالک کے دورے پر گئی باالخصواص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو سے زائد مرتبہ ایران کے دورے کیے

اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو اس بات پر قائل کیا کہ امن معاہدے کے لیے جو کوششیں ہو رہی ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر معاہدے پر دستخط کریں گزشتہ رات وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خود امن معاہدے پر دستخط کی تصدیق کی اور آج غیر ملکی میڈیا نے بھی اس بات کی اطلاع دی ہے کہ الیکٹر انک دستخط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکرنے کیے ہیں یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ امن معاہدہ ہوا ہے اور اب دنیا بھر میں استحکام کی بات ہورہی ہے تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی

مزیدپڑھیں:بارشوں کے نئے اسپیل کا آغاز،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش
ہو رہی ہے اور پاکستان میں جس تیزی سے تیل کی قیمتیں بڑھی تھیں ابھی اسی تیزی سے واپس آنی چاہئیں اور میری رائے کے مطابق ایک سو سے لے کر 150 روپے تک قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے اور امید رکھنی چاہیے کہ آئندہ جمعہ تک اس حوالے سے حکومت اہم اور بڑا اعلان کرے گی وزیر اعظم شہباز شریف نے آج قومی اسمبلی سے ایک دانشمند لیڈر اور مدبر کے طور پر خطاب کیا اور اپنے خطاب میں جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر،سعودی عرب ،قطر،چین اورترکیہ کی قیادت کاخصوصی طور پر شکریہ ادا کیا وہیں انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کاکئی مرتبہ ذکر کیا

اور ان کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ساتھ ہی انہوں اسحاق ڈار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اسحاق ڈار کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں کامیابی ملی ہے اوراتحادی جماعتوں کا بھی انہوں نے شکریہ ادا کیا اس امن معاہدے میں لبنان جنگ بندی بھی شامل ہے اوراسرائیل کی طرف سے اب بھی کوشش کی جارہی ہے کہ جمعہ 19 جون کو جنیوا میں پاکستان کی میزبانی میں جومعاہدہ ہورہاہے اس میں رخنے ڈالے جائیں

اسی لیے اسرائیل کے ایک وزیرنے اس معاہدے کومستردکردیاہےتاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مثبت کردار سامنے آیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات لبنان پر اسرائیلی حملے کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اسرائیل کے وزیر اعظم کو ٹیلی فون کر کے ان کی خاصی ہی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی اور برہمی کا اظہار کیا ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں 1979 میں امریکہ کی طرف سے ایران کے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے اثاثے اور رقم واپس کرنے کی شق بھی شامل ہے

اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے تین ارب ڈالر کی رقم ایران کو دیے جانے کی خبریں بھی آئی ہیں خطے میں امن قائم ہوگا آبنائے ہرمز بھی کھل چکی ہے جس کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمد ورفت میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور تیل کیقیمتیں توقع کی جارہی ہے کہ ایک سے دو ہفتے کے دوران 65 سے 70 ڈالر فی بیرل تک آجائیں گی جس کے بعد پاکستان میں بھی ریلیف ملے گا اور عوام نے جس مہنگائی کا سامنا

کیا ہے وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں کو اس سطح پر لائیں جو جنگ سے پہلے کی سطح پر تھی جہاں تک لیوی ٹیکس کا معاملہ ہے یہ تو ایکجگا ٹیکس ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے اگر ختم نہیں کر سکتے تو اے 50 فیصد کم کریں تا کہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر کام کیا جا سکے اس کے بعد انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہوگی جب پٹرول کی قیمتیں 28 فروری کی پوزیشن پرآ جائیں گی

تو پھر تاجروں دکانداروں ٹرانسپورٹروں اور دیگر کاروباری حضرات کے ساتھ سختی کی جائے اور انتظامی ڈنڈا چلایا جائے تا کہ قیمتیں اس سطح پر واپس چلی جائیں اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔