بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور(Jaipur) میں نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے ساتھ ایک دم ہی منہ پر تھپڑ مارنے کا واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہیں۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز جے پور کے شہید اسمارک کے مقام پر پیش آیا، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان نیٹ (NEET) امتحان کے پیپر لیک، بے روزگاری اور دیگر تعلیمی و معاشی مسائل کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دیپکے اپنے حامیوں کے کندھوں پر سوار ہو کر احتجاجی مقام پر پہنچے۔ اسی دوران بعض افراد کی جانب سے ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور انہیں تھپڑ بھی مارے گئے۔ واقعے کے دوران کچھ دیر کے لیے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی، بعد میں احتجاجی سرگرمیاں دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہیں۔
احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے نیٹ پیپر لیک کے معاملے اور نوجوانوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کی،ملک میں تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز، امتحانی شفافیت اور روزگار کے مواقع جیسے معاملات پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مزیدپڑھیں:نقوی صاحب کچھ کریڈٹ وزیراعظم کوبھی دیدیں پلیز
واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی مقام میں داخل ہوتے وقت انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، وہ ایسے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی تشدد کا جواب تشدد سے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض حلقے سوال اٹھانے والوں کو مختلف ناموں اور القابات سے نوازتے ہیں، تاہم وہ اور ان کے ساتھی عوامی مسائل پر آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے معاملات پر خاموش رہنا ممکن نہیں اور حکومت کو امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔
دوسری جانب واقعے کے حوالے سے پولیس یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ تشدد میں ملوث افراد کون تھے اور آیا اس سلسلے میں کوئی شکایت یا قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے یا نہیں۔









