اسلام آباد ( ممتاز نیوز ) وزیر داخلہ نے ایران امریکا معاہدے کے اعلان کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر(Asim Munir) کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے کر دکھایا ، اس پر ایک صارف نے لکھا کہ نقوی صاحب، کچھ کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی دے دیں پلیز !
14 اور 15 جون کی شب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی گئی۔ اس پوسٹ کے لگ بھگ دو گھنٹوں بعد ایک ایسی پیش رفت سامنے آنے والی تھی ، جس کا عالمی سفارتی منظر نامے پر شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا اور اس کے بعد دنیا پاکستان کا ذکر کرنے والی تھی۔
رات 12 بج کر 25 منٹ پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی پوسٹ انگریزی کے صرف چار الفاظ پر مشتمل تھی: گاڈ از دی گریٹسٹ ۔
یعنی خدا سب سے عظیم ہے۔ محسن نقوی ان اہم شخصیات میں شامل رہے ہیں جنھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں ایران کے کئی دورے کیے۔ اسی وجہ سے ان کی پوسٹ کے بعد چہ مگوئیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔
لوگ تبصروں میں اندازے لگانے لگے کہ اس کا تعلق امریکہ اور ایران میں ہونے والے معاہدے سے ہے۔ اور پھر اس کے ایک گھنٹہ اور 50 منٹ بعد، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے پوسٹ کی جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کا بطور عالمی امن سفیر کردار نمایاں
ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تفصیلی مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ طے پا گیا۔ وزیر داخلہ نے امن معاہدے کے اعلان والی شہباز شریف کو پوسٹ کو تو ری پوسٹ کیا، لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصویر الگ سے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے کر دکھایا، ایک بار پھر ۔
اس مرتبہ صرف اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شمع جو نیجو نے لکھا کہ نقوی صاحب، کچھ کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی دے دیں پلیز!
امریکی صحافی اور اینکر کیون کورک نے شہباز شریف کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ امن کی طرف پہلا قدم ۔ کچھ صارفین اپنے تبصروں میں ان خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر بمباری کر کے اس معاہدے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ جبکہ صحافی حامد میر نے خواہش کا اظہار کیا کہ اس عظیم ڈیل کے بعد پاکستانی عوام پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کے حقدار ہیں، کم از کم 200 روپے فی لیٹر
He did it. Again.
Not just for his country this time, but for the world. pic.twitter.com/gUxrtIWkE0
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) June 14, 2026









