بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قطر نے 3 لاپتا ایرانی پائلٹ گرفتار کرلیے، ایران کا دعویٰ

ایران نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر دعویٰ کیا ہے کہ 2 مارچ کو قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتا ہونے والے ایرانی فضائیہ کے 3 پائلٹوں کو قطری افواج نے گرفتار کرلیا تھا۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے ایک عہدیدار نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تینوں ایرانی پائلٹوں کی حالت کے بارے میں تحقیقات کرے اور ان کی رہائی کے لیے اقدامات کرے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی لاپتا افراد کی تلاش کے لیے قائم کمیٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپولیارک ایگر کے نام خط میں لاپتا ایرانی پائلٹوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ کے مطابق 2 مارچ 2026 کو ایرانی فضائیہ کے 2 ایس یو 24 جنگی بمبار طیارے ایران پر ہونے والے حملوں کے جواب میں قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

ان کے مطابق دونوں طیاروں نے اپنا مشن کامیابی سے مکمل کیا، تاہم واپسی کے دوران انہیں دشمن کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، جس کے باعث طیاروں کے عملے کو ایجیکٹ کرنا پڑا۔

باقرزادہ کے مطابق دونوں طیاروں میں سوار 4 پائلٹوں میں سے ایک، مجید کاظمی، شہید ہوگئے۔ بعد ازاں ان کی باقیات برآمد کرکے ایران منتقل کی گئیں، جہاں ان کی تدفین کردی گئی۔

ایرانی بریگیڈیئر جنرل نے خط میں دعویٰ کیا کہ ایران کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق واقعے میں شامل دیگر 3 پائلٹ، جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بہرویشیان، قطری افواج کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوئے تھے۔

انہوں نے قطر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واقعے کو 6 ماہ گزرنے کے باوجود قطری حکام نے بین الاقوامی قانون، بشمول جنیوا کنونشن، کے تحت قیدیوں کے حقوق کا احترام نہیں کیا۔

ان کے مطابق سفارتی کوششوں اور مسلسل رابطوں کے باوجود ایرانی حکام کو نہ تو ان پائلٹوں سے ملاقات یا ان کا انٹرویو کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں اپنے اہلخانہ یا اس معاملے کی پیروی کرنے والے ایرانی حکام سے رابطہ کرنے دیا گیا۔

بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے کہا کہ یہ معاملہ جنگی جرائم سے متعلق دفعات کے دائرے میں آتا ہے اور اس پر غور و تحقیقات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے آئی سی آر سی سے مطالبہ کیا کہ وہ قطر میں موجود تینوں ایرانی پائلٹوں سے فوری ملاقات کرے، ایران کو ان کی صحت اور موجودہ حالت سے آگاہ کرے اور ان کی فوری رہائی میں مدد فراہم کرے۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے یہ انکشاف تینوں پائلٹوں کی قسمت کے بارے میں کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے یکم اگست کو کہا تھا کہ ایران اس معاملے کی پیروی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ قطری حکام کا مؤقف تھا کہ انہیں لاپتا ایرانی فضائی اہلکاروں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔

ایرانی فوج کے مطابق دونوں طیاروں نے شیراز کے شہید دوران ایئر بیس سے پرواز کی تھی اور دشمن کے جدید ریڈار نیٹ ورکس اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے باوجود قطر میں امریکا کے زیر استعمال العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی فوج کے مطابق واپسی کے دوران خلیج کے اوپر دونوں طیاروں کو دشمن کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ زمین سے شدید طیارہ شکن فائرنگ کے باوجود کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی اور اس کے ذریعے جارح قوتوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ انہیں روکا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال 2 مارچ کو قطری وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ قطری فضائیہ نے ایران کی جانب سے آنے والے 2 ایس یو 24 طیاروں کو مار گرایا ہے۔