بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایمرجنسی اور گورنر راج میں کیافرق ہے ،دونوں کےنفاذ کا آئینی طریقہ کار کیا ہے؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بحث کے تناظر میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ اور کسی صوبے میں آئینی نظام ناکام ہونے کی صورت میں وفاقی اختیارات کے استعمال کے لیے الگ الگ طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔

اگر صوبائی حکومت پرفارم نہیں کرتی تو آرٹیکل 232 کو نافذ کیا جا سکتا ہے جو ایمرجنسی سے ڈیل کرتا ہے۔ صدر مملکت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایمرجنسی لگائے اور اس کے بعد سارا اختیار جو ہے وہ پاکستان کی وفاقی حکومت کو یا پارلیمنٹ کو منتقل ہو جاتا ہے کہ ان ساری چیزوں کو بیک ٹو ٹریک لانے کے لیے تمام عملی اقدامات کرے۔

ایمرجنسی لگنے کے بعد وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود سنبھالنے یا گورنر کو سونپنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے تاہم ہائی کورٹ کے اختیارات اس طریقے سے نہیں لیے جاسکتے۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب صدرِ مملکت مطمئن ہوں کہ کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔

ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقۂ کار کیا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق اگر صدرِ مملکت اس بات سے مطمئن ہوں کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر داخلی بدامنی کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے تو ایمرجنسی کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

تاہم، داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے۔ آئین میں یہ بھی درج ہے کہ اگر صدرِ مملکت اپنی جانب سے ایمرجنسی کا اعلان کریں تو اس کا حکم دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال کے طریقے سے متعلق ہدایات دے سکتی ہے۔ آئین کے تحت وفاقی حکومت حکم کے ذریعے صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی امور اپنے اختیار میں لے سکتی ہے یا گورنر کو یہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے، تاہم اس اختیار کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات وفاقی حکومت اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔

ایمرجنسی کی منظوری کتنے عرصے میں ضروری ہے؟

آئین کے آرٹیکل 232 کی شق 7 کے مطابق ایمرجنسی کے اعلان کو صدرِ مملکت کی جانب سے بلائے گئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو اعلان کے 30 دن کے اندر منعقد ہونا چاہیے۔

ایمرجنسی کا اعلان دو ماہ بعد ختم ہوجائے گا، اگر اس مدت کے اندر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے اس کی منظوری نہ لے لی جائے۔ اگر مشترکہ اجلاس میں ارکان کی مجموعی اکثریت سے ایمرجنسی کے اعلان کو مسترد کرنے کی قرارداد منظور ہوجائے تو اعلان ختم ہوجائے گا۔

مزیدپڑھیں:صدرِ مملکت نے خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کردی

اگر ایمرجنسی کے اعلان کے وقت قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہو تو آئین میں اس کے لیے الگ طریقۂ کار بھی موجود ہے۔

گورنر راج کیسے نافذ ہوسکتا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدرِ مملکت کو گورنر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد یہ اطمینان ہوجائے کہ صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو وہ صدارتی اعلان کے ذریعے صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔

اس طریقۂ کار کے تحت صدرِ مملکت یہ اعلان بھی کرسکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ تاہم، آئین کے مطابق ہائی کورٹ کے اختیارات اس طریقے سے وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی ہائی کورٹ سے متعلق آئینی دفعات معطل کی جاسکتی ہیں۔

آرٹیکل 234 کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں الگ الگ قراردادیں منظور ہونے کی صورت میں بھی صدرِ مملکت کے لیے ایسا اعلان کرنا آئینی طور پر لازم ہوجاتا ہے۔

گورنر راج کتنی مدت تک برقرار رہ سکتا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 234 کے مطابق گورنر راج سے متعلق صدارتی اعلان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر دو ماہ کے اندر منظوری حاصل نہ ہو تو اعلان ختم ہوجائے گا۔

منظوری کے بعد اس کی مدت مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے ذریعے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے بڑھائی جاسکتی ہے، تاہم آرٹیکل 234 کے تحت ایسا اعلان مجموعی طور پر چھ ماہ سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی میں بنیادی فرق

ایمرجنسی کا تعلق جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کے قابو سے باہر داخلی بدامنی کے باعث سلامتی کو لاحق سنگین خطرے سے ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کا تعلق صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانے میں ناکامی سے ہے۔

دونوں صورتوں میں وفاقی سطح پر غیر معمولی آئینی اختیارات استعمال کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کے نفاذ کی شرائط اور پارلیمانی منظوری کا طریقہ مختلف ہے۔ اس لیے کسی صوبے میں دہشت گردی یا امن و امان کی خراب صورتِ حال بذاتِ خود گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا خودکار فیصلہ نہیں بنتی؛ متعلقہ آئینی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کے بارے میں اس وقت تک دعویٰ نہیں کیا جاسکتا جب تک متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہ آجائے۔