چیئرمین پی ٹی آئی(Chairman PTI) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عدالت میں ثابت کریں گے کہ گورنر راج و ایمرجنسی غیر آئینی ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درخواستوں میں ہم نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو چیلنج کیا ہے، کارکنان اور ایم این ایز کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس کا بھی بتایا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ یہ غیر آئینی اقدام ہے، دہشت گردی کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، ہم نے وفاق کے الزام کو مسترد کر دیا ہے، ہمارے مینڈیٹ کا قلعہ ہم سے لیا گیا۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے، ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا اور ایمرجنسی لگائی گئی، صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور نہیں کی گئی، جو ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایران کا دورہ کریں گے
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، وزیرِ اعلیٰ، اسمبلی، عدالتیں، پولیس سب تھے پھر بھی گورنر راج لگایا گیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 2007ء میں بھی غیر آئینی ایمرجنسی لگائی گئی تھی، صرف پی ٹی آئی کے ترقیاتی کاموں کی تختیوں کو توڑا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں محمود اچکزئی نے کہا کہ ہماری وزیرِ اعظم سے دشمنی نہیں لیکن 4 کروڑ عوام کا مذاق بنایا گیا، یہ پی ٹی آئی کو پہلے دن سے اس کا مینڈیٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیٹوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر بانٹا گیا، یہ ہماری حکومت چھینیں گے لیکن ہمیں رونے کا حق بھی نہیں دیں گے، اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔









