بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صحت کا ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے ہیلتھ سکیورٹی ایکٹ تیار کر رہے ہیں، ڈاکٹر مختار بھرتھ

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ (Dr. Mukhtar Bharath)نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ اور صحت سے متعلق معلومات کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر محفوظ اور مؤثر نظام کا قیام ناگزیر ہے۔ وزارتِ صحت صحت کے ڈیٹا کے ذمہ دارانہ استعمال اور رازداری کو یقینی بنانے کے لیے ہیلتھ سکیورٹی ایکٹ تیار کر رہی ہے۔

16ویں سالانہ بین الاقوامی پبلک ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار بھرتھ نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کو عالمی مرکزِ امتیاز تسلیم کیے جانے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کی کامیابی کے لیے صرف ڈیٹا جمع کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کی درستگی، قابلِ اعتماد ہونے اور مختلف نظاموں کے ساتھ مطابقت کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

وزیر مملکت کے مطابق وزارتِ صحت قومی ہیلتھ انفارمیشن نظام کے قیام کے لیے کام کر رہی ہے، جس کے تحت طبی مراکز سے صحت کا ڈیٹا ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح تک منتقل کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان معلومات کے محفوظ تبادلے کا فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:عدالت میں ثابت کریں گے گورنر راج و ایمرجنسی غیر آئینی ہیں: بیرسٹر گوہر

انہوں نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ صحت کے ڈیٹا کی شیئرنگ کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ باقی صوبوں اور علاقوں کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ کا کہنا تھا کہ مجوزہ ہیلتھ سکیورٹی ایکٹ میں صحت سے متعلق معلومات کے تحفظ اور رازداری کے لیے واضح ضوابط شامل ہوں گے۔ یہ قانون وفاق، صوبوں اور علاقوں کے درمیان صحت کے ڈیٹا کے تبادلے کو قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے ڈیٹا کا تحفظ اور مصنوعی ذہانت کا اخلاقی استعمال ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کے بنیادی تقاضے ہیں۔ ٹیکنالوجی صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ طبی عملے کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔

وزیر مملکت نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل مہارتوں کی حامل طبی افرادی قوت تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ ملک میں صحت کی خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے