بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت پیپس بورڈ آف گورنرز کا اجلاس۔

اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز (پیپس) کی کارکردگی کو بڑھانے اور قانون سازوں اداروں کے اراکین اور ان کے عملے کی معاونت کے لیے پیپس کے کردار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “PIPS گزشتہ سالوں سے وفاقی اور صوبائی پارلیمانوں کے لیے معاون کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے PIPS کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ ادارہ اپنے تنظیمی مقاصد حاصل کر سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد میں پاکستان انسٹیٹیوٹ ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز (PIPS) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف نے اس امید کا اظہار کہ PIPS بورڈ آف گورنرز کے ممبران کی ہدایات پر عمل کرے گا۔ انہوں نے کہا بورڈ آف گورنرز کے ممبران تجربہ کار اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل ہے ان کی تجاویز انتہائی اہمیت کا حامل ہیں۔ انہوں نے PIPS کی تنظیمی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بورڈ آف گورنرز کے تمام ممبران سے تجاویز طلب کیں۔ بورڈ آف گورنرز کے ممبران کی تجویز کے مطابق صدر بورڈ آف گورنرز PIPS سپیکر راجہ پرویز اشرف نے PIPS کی کارکردگی کو جانچنے اور اس ادارے کی صلاحیت کو بڑھانے ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل کی اور ایڈوائزری کمیٹی بنانے کی بھی سفارش کی۔

پی ٹی وی پارلیمنٹ کے قیام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسپیکر نے اس منصوبے پر کام کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ممبران بورڈ آف گورنرز نے نوجوان نسل کو پارلیمانی طریق کار اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے سرکاری یونیورسٹیوں کے ساتھ رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ممبران پارلیمنٹ کے لیے ای پورٹل تیار کرنے کے حوالے بات کرتے ہوئے ممبران نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کی سہولیات کے لیے موبائل فرینڈلی ویب سائٹ تیار کی جائے تاکہ ممبران کو بروقت معلومات فراہم کی جا سیکیں۔

اجلاس میں صوبائی اسمبلیوں میں پارلیمنٹرینز ریسورس سینٹر (پی آر سی) کا قیام زیر غور لایا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے قانون ساز اداروں کے سروسز سینٹرز میں تحقیقی عملے کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے PIPS کے دیگر اداروں کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات طلب کیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے PIPS کی کارکردگی کو سراہا اور PIPS کے عملے کو سپورٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ PIPS بہتر کارکردگی دکھا سکے۔

اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر محترمہ مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تحقیق پر مبنی ان پٹ کی کمی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے PIPS کو وفاقی اور صوبائی ایوانوں کی مدد کے لیے ایک موثر تنظیمی ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان، سینیٹر کوہودا بابر سینیٹر/ممبر دلاور خان سینیٹر/ممبر، ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور، سینیٹر/ممبر ڈاکٹر نثار احمد چیمہ، ممبر قومی اسمبلی/ممبر، محترمہ واجہیہ قمر، ممبر قومی اسمبلی/ممبر، محترمہ مریم اورنگزیب، ممبر قومی اسمبلی/ممبر سید غلام مصطفی شاہ، ممبر قومی اسمبلی/ممبر مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی، ممبر قومی اسمبلی/ممبر محمد قاسم صمد خان، سیکرٹری سینیٹ آف پاکستان، سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین اور ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی نے شرکت کی۔