اسلام آباد(ممتازنیوز) قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں کمیٹی چیئرمین کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو کمیٹی نے متفقہ طور پر کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہونے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر اعتماد کرنے پر ارکان میں تمام اراکین کو مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ معروضی حالات کی وجہ فوڈ سیکیورٹی اور زرعی ترقی کا ایجنڈا مرکزی اہمیت حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے اس امید ظاہر کی کہ قومی اسمبلی کے تجربہ کار اراکین کی موجودگی میں کمیٹی پاکستان کی زرعی ترقی میں تیزی لانے لیے بہتر فیصلے کرے گی۔
کمیٹی اراکین نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی کا بطور چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا انتخاب زراعت کے شعبے سے متعلق بہتر فیصلے کرنے معاون ثابت ہو گا۔
اراکین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان اپنی مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے درآمد شدہ زرعی مصنوعات پر انحصار کر رہا ہے۔
ممبران نے کسانوں کی دیرینہ مسائل کو حل کرنے اور انہیں آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی اور پیداوار بڑھانے کے لیے بہتر تحقیق اور کسانوں کے منافع کے لیے بہتر طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بالترتیب گندم اور گنے کے کرشنگ سیزن کی امدادی قیمتوں کے تعین میں تاخیر پر غور کیا۔ ممبران نے افسوس کا اظہار کیا کہ اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت نا ملنے اور گنے کی کرشنگ شروع کرنے میں تاخیر کے باعث غریب کسانوں کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ شوگر ملز کے مالکان سے بات چیت کرے اور دستیاب اسٹاک کی تصدیق کرے اور انہیں اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کرنے سے وہ وقت پر گنے کی کرشنگ شروع کر سکیں گے اور اس طرح کسانوں کو فاہدہ ملے گا۔
نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے وزیر نے کہا کہ سرپلس سٹاک کے معتبر اور قابل تصدیق ثبوت کے بغیر حکومت چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی تھی، تاہم ملک میں بعد میں ملک میں چینی کی کمی کی وجہ سے، مہنگی چینی درآمد کرنی پڑی. اراکین نے وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ پر زور دیا کہ وہ شوگر ملز مالکان کے ساتھ بات چیت میں لچکدار دار رویہ اپنائیں اور تصدیق شدہ زائد چینی برآمدات کرنے کی اجازت دی جائے۔
کمیٹی اراکین نے کہا کہ بوائی سے پہلے امدادی قیمتوں کا جلد اعلان، فصلوں کی کاشت کے لیے بہتر منافع اور مراعات سے پیداوار میں اضافہ ہو گا۔
کمیٹی اجلاس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ وفاقی حکومت اب تک گندم کی امدادی قیمت کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی۔
وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کہا کہ صوبوں کے مختلف فیصلوں کی وجہ سے امدادی قیمتوں کے تعین میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے پیکج بھی کابینہ کے اجلاس میں زیر التواء ہے۔
اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ طارق بشیر چیمہ، وزیر تجارت سید نوید قمر، نواب شیر وسان، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، محترمہ مہناز اکبر عزیز، محترمہ وجیہہ قمر، میر خان محمد جمالی، ساجد مہدی، محمد معین وٹو، سید ابرار علی شاہ، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ اور ذوالفقار علی بیہان نے شرکت کی۔
علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کردیا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام آباد اور پنڈی ایک پیج پر ہیں اور وہ آئین اور قانون کا پیج ہے۔
وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ملک کیلئے ضروری ہے کہ تقرری اور سیاست کو الگ الگ ہونا چاہیے۔









