بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حفاظتی ضمانت، نوازشریف کی واپسی نئی مثال،نئی تاریخ رقم

 اسلام آباد(طارق محمود سمیر)مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے تمام ترافواہیں ، قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں، اب ان کی
واپسی میں قانونی رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے اور وہ شیڈول کے مطابق 21اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے ، سعودی عرب سے دبئی پہنچ چکے ہیں ۔ نوازشریف کی ہائی کورٹ سے 24اکتوبر تک حفاظتی ضمانت منظور ہونے کا عدالتی فیصلہ آچکاہے جس پر مختلف قسم کے تبصرے کئے جارہے ہیں ، کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کو خصوصی ریلیف دیا گیا ہے اور کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون کے مطابق نوازشریف کو حفاظتی ضمانت دی گئی ہے کیونکہ نیب نے عدالت میں نوازشریف کی واپسی پر جو موقف اختیار کیا اس کے بعد عدالت کے ذریعے نوازشریف کو حفاظتی ضمانت دینا بہت آسان ہو گیا تھا ۔ میاں محمد نوازشریف جو 4سال قبل علاج کے لئے لندن گئے تھے اس وقت عمران خان اقتدار پر موجود تھے لیکن عمران خان کا کوئی بس نہیں چلا اور نوازشریف بیمار ہونے کے بعد بہت خوش قسمت ثابت ہوئے کہ عمران خان کی کوشش کے باوجود انہی کی کابینہ کے فیصلے کے نتیجے میں قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے لندن گئے ۔ نہ تو انہوں نے جیل کی دیوار توڑی اور نہ ہی کوئی غیر قانونی طریقہ اختیار کیا ، میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر عدالت اور وفاقی کابینہ نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے نوازشریف کی بیرون ملک روانگی میں مدد کی اور بعد ازاں اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروانے کے لئے ن لیگ کی حمایت لی ۔ نوازشریف کی واپسی ملک میں سیاسی بے یقینی کے ماحول میں انتخابات سے قبل بہت اہمیت کی حامل ہے ۔یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ جس احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے میاں نوازشریف اور ان کی بیٹی کو 2018کے انتخابات سے قبل ایون فیلڈ ریفرنس میں 10برس قید کی سزا سنائی تھی آج وہی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ کیس میں نوازشریف کے وارنٹ معطل کئے اور وہی ہائیکورٹ جہاں ان کی اپیل زیر التواء رہی اور جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ن لیگ کے وکلاء مطالبے کرتے رہے کہ اس ویڈیو کو بنیاد بنا کر نوازشریف کو بری کیا جائے مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ سابق جج ارشد ملک مرحوم کو ویڈیو سکینڈل کے بعد ملازمت سے تو نکال دیا گیا لیکن نوازشریف کو ریلیف نہیں ملا ۔ نوازشریف اپنی سیاسی زندگی میں دوسری مرتبہ جلا وطن ہوئے ،پہلے وہ سعودی عرب ایک معاہدے کے تحت گئے تھے اور ستمبر 2007میں وطن واپس آنے کی کوشش کی مگر اسلام آباد ایئرپورٹ سے ہی انہیں واپس بھیج دیا گیا ، بعد ازاں جب بے نظیر بھٹو وطن واپس آگئیں تو نوازشریف بھی انتخابات سے قبل واپس آئے لیکن قانونی پابندیوں کی وجہ سے 2008 کا الیکشن نہیں لڑ سکے تھے ۔ اب عمران خان جیل میں ہیں اور نوازشریف وطن واپس آرہے ہیں ، سائفر کیس میں عمران خان پر 23اکتوبر کو فرد جرم عائد ہو گی اور نوازشریف 24اکتوبر کو ہائی کورٹ میں عدالت کے سامنے پیش ہوں گے جس کے بعد ان کی اپیلوں پر باضابطہ سماعت کا فیصلہ ہو گا۔ نوازشریف کی لاہور جانے سے قبل اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کریں گے جس کے بار یمیں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ عدالت کی طرف سے عارضی ریلیف ملنے کے باوجود وہ اسلام آباد کیوں آرہے ہیں ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بعض قانونی معاملات کے لئے نوازشریف پہلے اسلام آباد اتریں گے اور پھر لاہور جائیں گے ۔
تجزیہ