اسلام آباد(ممتازنیوز) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے یوم سیا ہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج سے 76 برس قبل 27 اکتوبر 1947 ء کو ہندوستان نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کا ارتکاب کرتے ہوئے غیر قانونی اور ناجائز تسلط قائم کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے 5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کر کے انسانی حقوق کی پامالیوں کی بدترین مثالیں قائم کرتے ہوئے لاکھوں کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر کے نظر بند کر دیا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ہندوں کی نوآبادکاری کی سازش کو فروغ دے رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔صادق سنجرانی نے کہا کہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی بربریت، ظلم وذیادتی اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے نہ صرف بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا بھر میں عیاں ہوا ہے بلکہ اس غیر قانونی اقدام پر دنیا بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا استعمال بشمول ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلے، محاصرے، دوران حراست تشدد، جبری گمشدگیاں، کشمیری قیادت کو نظر بند کرنااور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال بھی کشمیریوں کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکا۔ کشمیری عوام ثابت قدم ہیں اور رہیں گے انہوں نے عزم حوصلے اور قربانیوں سے عزم و ہمت کی شاندار تاریخ رقم کی ہے جو کشمیری عوام اور دنیا کے تمام آزادی پسند لوگوں کے لیے مشعل راہ بن چکی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بھارت غیرقانونی تسلط سے کشمیریوں کے جذبہ حق خودارادیت کو دبا نہیں سکتا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یک زباں اور ایک صفحہ پر ہیں۔پاکستان کی عوام اور تمام ادارے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔
محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی مثالیں قائم کرتے ہوئے لاکھوں کشمیریوں کو نظر بند کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے، جمہوریت پسند ممالک اور تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اقوام عالم کے امن کی ضمانت ہے۔اقوام متحدہ نے کشمیریوں کی آزادی کیلئے درجنوں قراردادیں منظور کی ہیں اور 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کی ضمانت دی تھی۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔پاکستان کی حکومت اورپارلیمان ہر فورم پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کا پرامن حل ہی خطے کی سلامتی کا ضامن ہے۔قائد ایوان سینیٹ سینیٹر اسحاق ڈار اور قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی یوم سیاہ کشمیر کے حوالے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو انسانی حقوق کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔ تسلط زدہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے اقوام عالم اور خاص طور پر انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کو نہ صرف موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر کے اس حقیقت کو عملی جامہ پہچانا چاہیے۔









