اسرائیل کی وحشیانہ سے بمباری سے دہشت میں مبتلا غزہ کے عوام کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پربھی ایک مختلف نوعیت کی جنگ چھڑی ہے۔
7 اکتوبرکو اس معاملے کے آغاز کے بعد سے فلسطینی اور اسرائیلی دونوں طرف کے ہزاروں اکاؤنٹس دوسرے فریق کو لڑائی کا ذمہ دارٹھہرانے کیلئے کوشاں ہیں.
تاہم اسرائیلی انفلو ئنسرز کی جانب سے ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئرکی جانے والی ویڈیوز کو اشتعال انگیز اورغیرانسانی قراردیا جا رہا ہے۔
اس طرح کی متعدد ویڈیوز فلسطینیوں کے مصائب کا مذاق اڑانے کے لیے شیئر کی جارہی ہیں۔
Videos of Israeli content creators making fun of Palestinians suffering without water, and electricity in Gaza are going viral ⤵️ pic.twitter.com/nwnC4kucMb
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 26, 2023
گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو میں ایک بااثرشخص غزہ کی ماؤں کی خالی ہوتی گودوں پر ہنستا ان کا مذاق اڑاتا نظرآیا تھا۔
اسرائیلی ایس ایف ایکس آرٹسٹ اور انفلوئنسرایو کوہن نے غزہ میں مسلسل بمباری میں پھنسے فلسطینیوں کی بےبسی کا مذاق اڑاتی ویڈیو شیئرکی۔
حالیہ مظالم کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے آرٹسٹ نے گھریلو اشیاء جیسے کہ ٹیلکم پاؤڈر اورٹماٹو کیچپ کو جعلی خون بنانے کے لیے استعمال کیا۔
As bombs rain on Palestinians in Gaza, Israelis like Eve Cohen have taken to TikTok in Arab face to claim Palestinian mothers are faking their deaths. pic.twitter.com/DIYICk9Y3o
— Rafael Shimunov (@rafaelshimunov) October 22, 2023
ایک اسرائیلی خاتون کارکن نے ٹک ٹاک پرویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ مذاق اڑارہی ہے کہ غزہ کے لوگ 3 ہفتوں سے پانی اور بجلی کے بغیرزندگی گزار رہے ہیں۔
اسرائیلی انفلوئنسرجگ میں پانی ڈالتی ہے۔ تو کبھی شاورکھول کرخوشی سے رقص کرتی ہے۔پھر وہ اپنا چارج شدہ فون لہرانے کے بعد گھر کی لائٹس آن کرتی ہے۔
🇮🇱 Obese Israeli influencer MOCKS Palestinians who have lost access to water, electricity & internet.
🇮🇱 She should make good use of the electricity she still has access to and run on a treadmill. pic.twitter.com/foDvfqGhj1
— Jackson Hinkle 🇺🇸 (@jacksonhinklle) October 25, 2023
باشعورسوشل میڈیا صارفین نے ایسی ویڈیو کو انتہائی غیرسنجیدہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا فلسطینی نسل کشی اسرائیلی مزاح کا نیا ذریعہ ہے یا کچھ اور؟۔
ایکس پر ایک صارف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ، یہ فلسطینی مخالف نسل پرستانہ سازشی نظریے ’پلی وڈ‘ کی ایک مثال ہے، جہاں کچھ صیہونیوں کا استدلال ہے کہ فلسطینی میڈیا کو ’مصائب‘ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں – حیرت انگیز طور پر یہ بھی یہود مخالف نظریات سے بہت مماثلت رکھتا ہے’۔









