بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ کا سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ممتازنیوز )سپریم کورٹ آف پاکستان نےپرویز مشرف کی خصوصی عدالت کی سزادرست قراردے دی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 4 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔

وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر موجود ہیں، وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائی کورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کے خلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، انہوں نے استدعا کی کہ دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیں، پہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں۔

بعد ازاں وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟

ایڈیشنل اٹارنی نے جواب دیا کہ ہم پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ ہم شاید آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویز مشرف کے ورثا کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے، مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کے لیے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے، عدالت 561 اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟

پرویز مشرف کے وکیل سلمان سفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے اقدام کو سراہتا ہوں، پرویز مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ آپ کے لاہور ہائی کورٹ کے بارے میں کیا تحفظات ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ میں لاہور ہائی کورٹ میں سابق صدر کا ٹرائل کرنے والے جج کے سامنے سپریم کورٹ میں بھی پیش نہیں ہوتا، اس بارے میں آپ کے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے ہیں،۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں۔

’ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے‘
وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے، اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے، پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام سے الگ کر کے سزا دی گئی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت میں پانچ منٹ کا وقفہ دے دیا۔

یاد رہے کہ مرحوم پرویز مشرف نے اپنے وکیل سلمان صفدر کے توسط سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں استدعا کی تھی کہ سزا کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ ان کے خلاف مقدمہ مکمل طور پر آئین اور ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) 1898 کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے بنایا گیا، اس سزا کو معطل کیا جانا انصاف اور منصفانہ عمل کے مفاد میں ہے۔

اپیل میں کہا گیا کہ سابق صدر کے خلاف مکمل طور پر غیر آئینی طریقے سے آئین کے خلاف جرم کے ارتکاب کا مقدمہ چلایا گیا۔