اسلام آباد:سابق رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) علی وزیر کے خلاف سکھر میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
علی وزیر گڈانی جیل میں نظر بند ہیں، اُن پر سکھر میں مقدمہ 7 دسمبر کو درج کیا گیا ہے۔
سابق ایم این اے پر مقدمہ تھانہ بائی جی شریف میں درج کیا گیا تھا، جسے ختم کرانے کےلیے علی وزیر کے وکیل قادر خان نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ ولی وزیر مینٹیننس آف پبلک آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت گڈانی جیل میں نظر بند ہیں۔
دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے صدرمقام وانا میں سابق ایم این اے علی وزیر کی رہائی کے لیے ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں قبائلی مشران، سیاسی قائدین، علما کرام اور عام قبائل نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔
جلسہ سے پہلے وانا بازار میں ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی اور ریلی کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر علی وزیر کی غیر قانونی‘ قید کو ختم کرانے اور ان کی جلد رہائی کے نعرے درج تھے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا مقررین نے کہا کہ علی وزیر پشتون قوم کے ایک بڑے اور بہادر لیڈر ہیں اور علی وزیر نہ صرف جنوبی وزیرستان کے منتخب نمائندہ رہے ہیں بلکہ انھوں نے ملک کی تمام محکوم قوموں کی ترجمانی کر کے کروڑوں لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گئے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ علی وزیر کے خاندان نے ملک کی آزادی سے لے کر حالیہ دہشتگردی کی جنگ تک بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان کے خاندان کے کئی افراد ملکی یکجہتی کے لیے مارے جا چکے ہیں۔
جلسے کے سارے مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں علی وزیر کے خاندان کی قربانیوں کا ذکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ علی وزیر نے کوئی جرم نہیں کیا ہے لیکن ریاست اور ریاستی ادارے انھیں اس لیے برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہر فورم پر حق کی بات کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیاست میں علی وزیر ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کے بغیر پشتون بیلٹ میں استحکام نہیں آ سکتا۔ انھوں نے کہا کہ علی وزیر پر جتنی آیف آئی آرز کاٹی گئی ہیں وہ ساری سیاسی اور انتقامی نوعیت کی ہیں۔ مقررین نے حکومت وقت سے علی وزیر کی جلد رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انھیں مزید جیل میں رکھنے کی کوشش کی گئی تو عوام احتجاج کا دائرہ اسلام آباد تک وسیع کردیں گے۔
جیل میں نظر بند، سابق ایم این اے علی وزیر پر سکھر میں مقدمہ درج








