بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ججزمخالف بیانات، ایمان مزاری کیخلاف توہین عدالت درخواست پر فیصلہ جاری

اسلام آباد: (نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز کیخلاف بیانات پر وکیل ایمان مزاری کیخلاف دائر توہین عدالت درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے ضلعی عدلیہ کے ججز کے خلاف بیانات پر وکیل ایمان مزاری کے خلاف دائر توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جسٹس محسن اختر کیانی نے گیارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، شہری حافظ احتشام نے ایمان مزاری کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کر رکھی تھی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی، پٹیشنر کے مطابق ایمان مزاری نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹس کے ججز نے توہین مذہب کیسز کے ملزمان کے دباؤ میں آ کر سزائیں دیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

فیصلے کے مطابق ایمان نے کہا ملزمان کے خلاف کیسز ثابت نہ ہوئے لیکن ججز نے عوامی دباؤ اور خوف کے باعث سزائے موت سنائی، نیشنل پریس کلب کے باہر 27 ستمبر کو ایمان مزاری سے منسوب تقریر کے متن کو بھی عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق ایمان مزاری کی ججز سے متعلق تقریر حقائق کے برخلاف اور توہین عدالت ہے، توہین عدالت تین قسم کی ہوتی ہے، سول ، کریمنل اور جوڈیشل توہین عدالت، موجودہ درخواست عدالتی حکم عدولی نہیں بلکہ عدالت کو سکینڈلائز کرنے سے متعلق جوڈیشل توہین عدالت کی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

فیصلے میں کہا گیا کہ ایمان مزاری سے منسوب الفاظ سنی سنائی بات یا رائے سے متعلق ہیں جو آزادی اظہار رائے کے آئینی حق میں آتے ہیں، ایمان مزاری نے اس عدالت کے کسی جج کا نام نہیں لیا، نا ہی ٹرائل کورٹ کے کسی جج کو نام لے کر ٹارگٹ کیا۔

عدالت کے مطابق ایمان مزاری نے صرف عمومی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، ایسا کوئی مواد نہیں جس سے ثابت ہو کہ ایمان مزاری نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کہا، توہین عدالت کا مقدمہ صرف اسی صورت بنتا ہے جب عدلیہ کو بدنام کرنے کا واضح ارادہ ہو۔