بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ناصر مدنی کی سوشل میڈیا شخصیات پر سخت تنقید، شادیوں میں رقص اور ٹک ٹاک سرگرمیوں پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: علامہ ناصر مدنی (Nasir Madni)نے سوشل میڈیا شخصیات اور ان کے مداحوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے شادیوں میں رقص، ٹک ٹاک سرگرمیوں اور عوامی مقبولیت کے معیار پر سوالات اٹھا دیے۔ ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر شخصیات کے طرزِ عمل، مداحوں کی سوچ اور مذہبی حلقوں کے کردار سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ناصر مدنی نے اپنے بیان میں مسٹر پتلو والا پروگرام منسوخ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پتلوکہتاہے کہ تعلیم یافتہ اور ایم اے پاس افراد ان سے ملاقات کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتےہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ کیا متعلقہ شخصیت خود کو امامِ کعبہ سمجھتی ہے کہ لوگ اس سے ملاقات کے لیے اس قدر بے تاب ہیں؟

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مزیدپڑھیں:کلور کوٹ میں ٹریکٹر ٹرالی الٹنے سے 2 خواتین اور 2 بچے جاں بحق، متعدد افراد زخمی

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے سوشل میڈیا پر لڑکیوں کے رقص اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کے حوالے سے بھی تنقید کی۔ ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ کیا لوگ کسی شخصیت کے مداح اس لیے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اسکول سے نکال کر ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنواتی ہے اور رقص کے ذریعے ڈالر کماتی ہے؟ انہوں نے اس طرزِ عمل کو مداحوں کی پسند اور سوچ سے جوڑتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ناصر مدنی نے مزید کہا کہ ایسی شخصیات کے مداح ہونے پر لوگوں کو اپنے رویوں اور ترجیحات پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ شخصیت کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے کردار اور عوامی مقبولیت کے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ناصر مدنی کے بیان میں سوشل میڈیا پر مقبول شخصیات کے طرزِ زندگی، خواتین کی ویڈیوز، شادیوں میں رقص اور مذہبی شخصیات کے کردار سے متعلق متعدد سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ تاہم بیان میں جن افراد یا پروگراموں کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کی جانب سے مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی دوسری جانب بھی واضح ہوسکے گی۔