بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب حکومت کو بدنام کرکے متبادل انتظام لانے کی کوشش ہو رہی ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف(Khawaja Asif) نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کے الزامات کا شور حکومت کو کمزور اور بدنام کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے نئے سیاسی گروپ یا متبادل انتظام کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بعض سرمایہ دار بھی گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے سرگرم ہیں اور بظاہر ایک نئے گروپ کی تشکیل کی کوششیں کر رہے ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ان کے مطابق دو سال بعد انتخابات ہونے ہیں اور ممکن ہے اس گروپ کے پیش نظر یہ سوچ ہو کہ موجودہ سیاسی قیادت پرانی ہو رہی ہے، اس لیے نئی ٹیم سامنے لائی جائے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے کہا کہ کرپشن صرف پنجاب کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک میں موجود ہے اور عام شہری روزمرہ زندگی میں اس کا سامنا کرتے ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مزیدپڑھیں:لاہور نے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلا نمبر حاصل کر لیا

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ان کے بارے میں بیان دیا تو انہوں نے بھی جواب دیا، تاہم سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ باہمی احترام اور سلام دعا بھی ختم ہوجائے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ چار سال کے دوران سیاسی ماحول میں بہت تلخی پیدا کی ہے۔

وزیر دفاع نے فکسڈ سیاسی گیم کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی ایسی سیاست کی ہے اور نہ ہی اس کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کھولے گئے مقدمات واپس نہیں لے گی، کیونکہ ایسی کسی ڈیل کی قیمت بالآخر حکومت کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔

مولانا فضل الرحمان سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن سیاسی عناصر کو صیہونی جماعت قرار دیا جاتا تھا، آج وہی ان کے سیاسی حلقے میں جگہ بنا رہے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان کرپشن کے معاملے پر اختلافات پہلے بھی رہے ہیں اور آئندہ بھی رہ سکتے ہیں، تاہم بعض سیاسی جماعتوں کے بارے میں ماضی کے سخت مؤقف میں آنے والی تبدیلی قابلِ غور ہے۔