اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹویٹس کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ حکم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے جاری کیا۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے پہلے ساڑھے گیارہ بجے اور بعد ازاں ڈھائی بجے تک سماعت میں وقفہ کیا۔
جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں، جس پر پراسیکیوشن نے بتایا کہ دونوں جان بوجھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر کے دفتر میں موجود ہیں۔ پراسیکیوشن نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، تاہم جج نے کہا کہ ان کے پاس اس کے لیے مکمل اختیارات موجود ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ متعدد مواقع پر کیس کی سماعت کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکلاء بھی موجود نہیں تھے۔ ہائیکورٹ کی ہدایات کے باوجود دونوں عدالت پیش نہ ہوئے، اس لیے پراسیکیوشن نے ان کی ضمانت منسوخ کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 کے کیس میں دونوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے، تاہم گرفتاری کے خدشے کے باعث دونوں رات ہائیکورٹ بار کے صدر کے دفتر میں گزار رہے تھے۔ ہائیکورٹ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور پارکنگ میں آنے جانے والی گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی گئی۔
اس موقع پر ایمان مزاری نے کہا کہ “ہمیں کوئی رعایت نہیں چاہیے، ہم خود سرینڈر کرنے کے لیے تیار ہیں، بس ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں۔”
عدالت نے سماعت کل صبح ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوں۔ جج نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق 24 جنوری تک جرح مکمل کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب، ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔
واضح رہے کہ دونوں ملزمان نے حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کرنے کے دوران بائیو میٹرک تصدیق کروائی، جبکہ ان کے وکلاء میں ڈاکٹر بابر اعوان اور ہائیکورٹ بار کے صدر واجد علی گیلانی شامل تھے۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم








