بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 تازہ ترین

سانحہ گل پلازہ: ملکی تاریخ میں پہلی بار جدید طریقوں سے 12 جاں بحق افراد کی باقیات کی شناخت

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے 12 افراد کی باقیات جدید اور متبادل سائنسی طریقوں سے شناخت کرنے کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ یہ شناخت اینٹی مارٹم ڈیٹا، پروف آف پریزنس اور دیگر شواہد کی مدد سے ممکن بنائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن نے ایکسپریس سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب ڈی این اے کے علاوہ اینٹی مارٹم معلومات، موبائل فون لوکیشن، جائے حادثہ پر موجودگی کے شواہد اور پوسٹ مارٹم ڈیٹا کو باہم جوڑ کر باقیات کی شناخت کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ شناخت ہونے والوں میں نارتھ ناظم آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے تین افراد شامل ہیں جو شاپنگ کے لیے گل پلازہ آئے تھے، جن میں عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹا علی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سائٹ میٹروول کے رہائشی دبئی کراکری شاپ کے دو حقیقی بھائی نعمت اللہ اور عبداللہ، ان کے دو کزن یوسف خان اور گارڈن کے رہائشی صداقت اللہ، قصبہ کالونی کے رہائشی کراکری شاپ کے مالک یاسین، تین سگے بھائی خضر علی، حیدر علی اور عامر علی، جبکہ رنچور لائن کے رہائشی ابو بکر بھی شناخت شدہ افراد میں شامل ہیں۔
عامر حسن کے مطابق اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی بنیاد پر شناخت کے بعد تمام 12 افراد کی باقیات لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ سانحہ گل پلازہ میں اب تک مجموعی طور پر 39 جاں بحق افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں 20 کی شناخت ڈی این اے، 12 کی اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک کی شناخت شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سے ابھی 4 سے 5 افراد کے ڈی این اے نتائج آنا باقی ہیں، جبکہ دیگر باقیات میں ڈی این اے یا تو منفی آیا یا نمونے حاصل ہی نہیں ہو سکے، کیونکہ شدید آگ کے باعث بیشتر باقیات راکھ میں تبدیل ہو چکی تھیں۔
عامر حسن نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت ایسے حالات میں متبادل شواہد کی بنیاد پر شناخت کی اجازت ہوتی ہے، تاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کو باعزت تدفین کے لیے حاصل کر سکیں۔ اسی اصول کے تحت جاں بحق افراد کی لوکیشن، گل پلازہ میں موجودگی، ذاتی اشیاء اور پوسٹ مارٹم معلومات کو یکجا کر کے شناخت ممکن بنائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بعض لواحقین خود اپنی دکانوں سے باقیات نکال کر لائے، جن کی موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی تصدیق کرتی تھی۔ مثال کے طور پر جاں بحق ابو بکر کے بیٹے تاج محمد خود ریسکیو ٹیم کے ساتھ موقع پر گئے اور اپنے والد کی باقیات لے کر آئے۔ تین افراد کی شناخت ویڈیو شواہد کی مدد سے بھی کی گئی۔
شناخت پروجیکٹ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ آئندہ مرحلے میں اینٹی مارٹم ڈیٹا اور پروف آف پریزنس کی بنیاد پر مزید 10 سے زائد افراد کی باقیات شناخت کر کے جلد لواحقین کے حوالے کی جائیں گی، تاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔

تازہ ترین
کرکٹ
برمنگھم ٹیسٹ: پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں 449 رنز بنا کر آؤٹ، انگلینڈ کو فتح کے لیے 130 رنز کا ہدف
پٹرول
عوام کے لیے معاشی جھٹکا: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ، نوٹیفکیشن جاری
ملاقات
پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، آل پارٹیز کانفرنس اور پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیدی
بارش الرٹ
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کل سے 17 ستمبر تک طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کا خدشہ
رضا اللہ
رضا اللہ کا ایجبسٹن میں تاریخی کارنامہ، پہلے ہی ٹیسٹ میں تیز ترین نصف سنچری کا نیا ریکارڈ قائم
طارق سمیر
آئی ایم ایف وفد کی آمد اور چینی اسکینڈل، پی ٹی آئی رہنما علی عمران اور صحافی طارق سمیر میں شدید تلخ کلامی
شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی بڑھتی لوڈشیڈنگ پر شدید برہمی کا اظہار، کسی علاقے میں 2 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت
چوہدری محمود بشیر
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک انتقال کر گئے