بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی قانونی اور سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے، جسے ماہرین عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر اس معاہدے کو “ہولڈ” پر رکھنا نہ صرف قانونی طور پر کمزور مؤقف ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک باقاعدہ اور binding بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے یا اس کی تشریح تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس تناظر میں بھارت کا حالیہ اقدام اصول pacta sunt servanda یعنی معاہدوں کی پابندی کے بنیادی اصول کے بھی منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:نامور فلمی اداکارعلی خان انتقال کرگئے
تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام واقعے کو جواز بنا کر اس اقدام کی وضاحت کرنے کی کوششیں عالمی فورمز پر اب تک کسی ٹھوس ثبوت سے محروم رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ اقدام زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر کیا گیا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیکیورٹی معاملات کو آبی معاہدوں کے ساتھ جوڑنا نہایت خطرناک رجحان ہے، جو مستقبل میں دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے لیے بھی عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر ایک بالائی دریا کا ملک پانی جیسے مشترکہ وسائل کو بطور دباؤ استعمال کرے تو یہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور لاکھوں افراد کے معاشی و زرعی مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے بقول اس طرح کے اقدامات عالمی سطح پر قائم rules-based order کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید برآں، بھارت کی جانب سے مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) جیسے فورمز سے گریز اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ماہرین کے سوالات پر خاموشی کو بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ “selective legality” کی عکاسی کرتا ہے، جہاں قوانین کو اپنی سہولت کے مطابق اپنایا یا نظرانداز کیا جاتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سندھ طاس معاہدہ ایک ناقابلِ تنسیخ ذمہ داری ہے اور اسے کسی بھی یکطرفہ فیصلے کے ذریعے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتا رہے گا اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔









