پاکستان تحریکِ انصاف کے چئیرمین عمران خان کی سابق اہلیہ نے اسرائیل کی حمایت پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد ردعمل دیا ہے، اسرائیلی دوستوں کی حمایت نے جمائما کی پوسٹ کو ایک بار پھر متنازع بنادیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جمائما گولڈ اسمتھ نے ایک پوسٹ شئیر کی جس میں انہوں صارفین کی تنقید پراپنا موقف پیش کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں دس سال سے ایک مسلم ملک میں رہ رہی ہوں اورمیرا اسرائیل کے ساتھ ایک تاریخی خاندانی تعلق بھی ہے‘۔
انہوں نے مذہبی تفریق کا نشانہ بننے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’مجھے ذاتی طور پر اپنی یہودیت کی وجہ سے جان سے مارنے کی بے شمار دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور کئی دہائیوں سے یہود مخالف بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘۔
I realise that Twitter spats don’t help anyone. I have found it hard to disengage – I have Jewish and Muslim family members & friends, whom I deeply love. I have lived in a Muslim country for ten years and have been to Gaza & The West Bank and I also have a historic family…
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) October 18, 2023
سابق شوہر عمران خان پر حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے بچوں کے والد کو ”یہودیوں سے قربت“ کے سبب پاکستان میں گولی ماری گئی تھی‘۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے اسرائیلیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہی وجہ ہے کہ میں ان اسرائیلیوں کی بہادری اور دیانت داری سے بہت متاثر ہوں جنہوں نے گزشتہ چند دنوں میں اپنے رشتہ داروں کو کھونے کے باوجود غزہ پر جاری بمباری کے خلاف سب سے طاقتور بیانات دیے ہیں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ ان کی آوازیں سنی جائیں’۔
بچوں کو ان حملوں کا نشانہ بنانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’مزید ہزاروں معصوم بچوں کو قتل کرنے اور زخمی کرنے سے نہ تو دہشت زدہ یرغمالیوں کو بچایا جا سکے گا اور نہ ہی اس سے امن آئے گا اور نائن الیون کے بعد عراق اور افغانستان کی جنگوں کی طرح ہم سب کے لیے مزید دہشت گردی اجاگر ہوگی‘۔









