مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف آج 4 سال بعد وطن واپس آ رہے ہیں، جن کے استقبال کے لئے ملک بھر سے قافلے اسلام آباد اور لاہور روانہ ہوچکے ہیں، موٹروے پر مسافروں کو قافلوں کے سبب دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف 4 سال بعد وطن واپس آ رہے ہیں، سابق وزیراعظم وطن واپسی کیلئے دبئی ایئرپورٹ پہنچ گئے، انہیں پاکستان لانے والا خصوصی طیارہ دوپہر ساڑھے 12 بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گا۔
نوازشریف اسی خصوصی طیارے میں اسلام آباد سے دوپہر 2 بجے لاہور پہنچیں گے اور پھر ہیلی کاپٹر پر جاتی امراء جائیں گے، جہاں وہ والدین اور اہلیہ کی قبر پر فاتحہ پڑھیں گے، جب کہ شام 7 بجے جلسہ گاہ بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچیں گے۔
نواز شریف کی آمد کے سلسلے میں لیگی قیادت کو زیادہ کارکنان نکالنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے، اور تمام سابق ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو کارکنان کی لسٹ تیاری کے لیے پرفارما جاری کیا گی اہے، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اپنے کارکنان کی تعداد گاڑیوں کے کوائف درج کریں گے۔
نواز شریف کے استقبال کے لئے ن لیگ کے کارکنان کی راولپنڈی کے کمیٹی چوک میں آمد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لیگی قیادت نے ان کے لیے ناشتے کا اہتمام کر رکھا ہے، ناشتے میں انڈہ، چنے، نان ، قیمہ اور حلوہ پوری سےتواضع کی جائے گی۔
راولپنڈی دانیال ہاؤس سے چوہدری تنویر کی قیادت میں نواز شریف کی وطن واپسی پر استقبالی ریلی نکالی گئی ہے، اور اس ریلی کی روانگی سے قبل کارکنان کیلئے دانیال ہاوس میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا۔
ریلی 26 نمبر چنگی پر رکے گی جہاں دیگر ریلیاں لاہور کیلئے روانہ ہوں گے، ریلی میں مسلم لیگ ن کے کارکنان نے پارٹی جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔
راولپنڈی میں سابق ایم این اے ملک ابرار احمد کی جانب سے بھی کارکنان کے لئے ناشتے کا بندوست کیا گیا ہے، ناشتے میں حلوہ پوری، چنے، انڈے الو بجیا، چائے شامل ہے۔
لیگی کارکنان ریلیوں کی صورت میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، اور جگہ جگہ پینا فلیکس آویزاں کئے گئے ہیں، جب کہ نوازشریف کے حق میں نعرے بازی بھی جاری ہے۔
سابق ایم پی اے ملک افتخار اور ان کے ہمراہ کینٹ ممبران بھی راولپنڈی میں لگے استقبالی کیمپوں کا دورہ کررہے ہیں۔
دوسری جانب پشاور میں ہزارہ موٹروے پر ٹریفک کا شدید رش ہے، خیبرپختونخوا کے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں اور اسلام آباد سے لاہور انٹر چینج پر عوام اور گاڑیوں کا جم غفیر ہونے کے باعث مسافروں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے پر پولیس کا عملہ متحرک ہے۔









