اسلام آباد(طارق محمود سمیر)مسلم لیگ (ن) کے قائد وسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا چار سال بعدجلاوطنی کا خاتمہ اور مینار پاکستان کے تاریخی گرائونڈ میں سیاسی پاور شو سے ثابت ہوگیا ہے کہ ن لیگ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ میاں محمد نوازشریف نے اپنے طویل خطاب میں مستقبل کا سیاسی، معاشی ،دفاعی اور خارجہ پالیسی کا جامع روڈ میپ دیدیا ہے ۔نوازشریف نے شہبازشریف سمیت دیگر سینئر رہنمائوںکی رائے اور تجاویزکا احترام کرتے ہوئے نہ تو اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کا نام لے کرکوئی بات کی اور نہ ہی سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا کوئی تذکرہ کیا ۔نوازشریف نے تو اپنی تقریر میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ان کے دل میں انتقام کی کوئی تمنا نہیں ہے ،ان کی تمنا یہی ہے کہ پاکستان ترقی کرے ، عوام خوشحال ہوجائے،نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے مختلف تجزیے وتبصرے ہوتے رہیںگے ، مینار پاکستان کی اگر بات کی جائے تو ملک کی سیاسی تاریخ میں اس مقام کی بہت اہمیت ہے کیونکہ 1940میں جب اسے منٹو پارک کہا جاتا تھا یہاں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی اور پاکستان کا قیام ممکن بنایا گیا بعدازاں اس کا نام مینار پاکستان رکھ دیا گیا ، ملکی تاریخ میں اس مقام پر اس سے قبل دو بڑے سیاسی اجتماع ہوئے ہیں، ایک اجتماع پیپلزپارٹی کی سابق چیئر پرسن بینظیر بھٹو شہیدکی 1986میں فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں طویل جلاوطنی سے واپسی پر ایک تاریخی استقبال ہوا جس کی مثال آج تک دی جاتی ہے، اس زمانے میں نہ تو ٹیلی ویژن چینل تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا تھا مگر بینظیر بھٹوکا تاریخ ساز استقبال ہوا اور اس وقت ضیاء الحق اقتدار میں تھے ، دوسرا بڑا اجتماع 2011 میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا جلسہ تھا جو ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا اور اس جلسے سے عمران خان کی سیاست کو عروج ملا۔اب میاںمحمدنوازشریف کی وطن واپسی پر مینار پاکستان پر تاریخ ساز اجتماع ہوا ہے ، ن لیگ کی قیادت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ 10لاکھ کے قریب لوگ تھے ، اس حوالے سے دعوے چلتے رہیں گے لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ ایک کامیاب سیاسی شو تھا اور اس کا فائدہ ن لیگ کو آئندہ انتخابات میں پہنچے گا ۔جلسے کوکامیاب بنانے کیلئے مریم نوازہوں، شہبازشریف یا دیگر قیادت سب نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک بھرپورکوشش کی ،نوازشریف تقریر کے دوران پ اعتماد تھے ،اپنے غصے اور ماضی کے واقعات کو ایک طرف رکھ کر مستقبل کا ایجنڈا دیا ،نوازشریف نے اس حد تک ضرور شکوہ کیا کہ ان کی والدہ اور اہلیہ بیگم کلثوم نواز ان کی سیاست کی نذر ہوگئیں ،آج میں جب گھر جائوںگا تو وہ دونوں میرے استقبال کیلئے موجود نہیں ہوںگی ، والد فوت ہوئے تو میں انہیں قبر میں نہیں اتار سکا، اڈیالہ جیل میں اطلاع ملی کہ میری اہلیہ فوت ہوگئیں،میری بیٹی کو بھی بہت دکھ ہوا ،نوازشریف نے اپنی حکومت کے بہت سے کارنامے بھی گنوائے جن میں موٹرویزکی تعمیر، ایٹمی دھماکے ، ملکی معیشت کا استحکام ، کم مہنگائی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا ہمارے دور میں پٹرول 60روپے ،روٹی چار روپے ،ڈالر 60روپے کا تھا، آج بہت مہنگائی ہے ، نوازشریف نے اپنی تقریر میں دو اہم رہنمائوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا جن میں رانا ثناء اللہ اور حنیف عباسی شامل ہیں اور یہ شکوہ کیا کہ مخالفین ان دونوںکو سزائے موت دینے کے چکر میں تھے، نوازشریف نے اپنے بیانیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیانیہ اورنج لائن ، کراچی گرین لائن، موٹرویز اور چاغی کے پہاڑوں سے پوچھ لیا جائے ،ملک کے حالات کے حوالے سے اہم بات یہ کی ہے کہ پاکستان کو آئین کی روح کے مطابق چلایا جائے اور آئین کی روح کے مطابق مستقبل کا پلان بنانے کی ضرورت ہے، تمام اداروں کو مل کر پاکستان کیلئے کام کرنا ہوگا اور بنیادی مرض کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے،نوازشریف نے خارجہ پالیسی کا بھی خصوصی طور پر ذکرکیا اورکہا کہ ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہوگا، ہمسایہ ممالک کیساتھ لڑائی کر کے ترقی نہیںکی جاسکتی ، مسئلہ کشمیر کا بھی باوقار طریقے سے حل تلاش کرنا ہوگا ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے واقعات کا بھی نوازشریف نے تذکرہ کیا، فلسطینی عوام پر اسرائیل کے مظالم کا بھی نوازشریف نے خصوصی ذکر کیا اور انہوں نے تقریر کے دوران فلسطینی پرچم لہرایا ، تقریر کے آخری حصے میں نوازشریف کا ایک مذہبی رنگ بھی نظر آیا جہاں انہوں نے خصوصی دعا بھی کرائی جس میں انہوں نے ملکی مسائل کا حل ، مہنگائی ، بیروزگاری کے خاتمے سمیت دیگر معاملات کا ذکرکیا اور زوردے کرکہا کہ اللہ سے لو لگا لیں تو تمام دعائیں قبول ہوںگی ۔میاں نوازشریف کے خطاب پر تنقید کرنے والے تنقید توکرتے رہیں گے لیکن میرے حساب سے نوازشریف نے سیاسی مدبر کے طور پر اپنی تقریر کی جس میں انہوں نے مستقبل کا نہ صرف ایجنڈا پیش کیا، انہوں نے ماضی کا کچھ تذکرہ ضرور کیا تاہم ان تجزیہ نگاروں کی تمام باتوں کو غلط ثابت کردیا کہ وہ کسی سے انتقام لینے کیلئے و طن واپس آئے ہیں ۔ نوازشریف نے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی جوبات کی ہے یہ سعودی عرب روانگی سے قبل ہیتھروایئرپورٹ پربرطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹرمحمد فیصل نے ان سے کی تھی۔اس کی ویڈیووائرل ہونے پر تبصرے ہوئے کہ نوازشریف کومستقبل کے وزیراعظم کے طور پردفترخارجہ نے بریف کیا ہے ۔
نوازشریف نےسیاسی، معاشی ،دفاعی اور خارجہ پالیسی کا جامع روڈ میپ دیدیا








