اسلام آباد(طارق محمود سمیر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں مزید دو دن توسیع کر دی ہے جبکہ العزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں دو اپیلیں بحال کرنے کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کر لیا گیا ہے دوسری جانب پیپلزپارٹی نوازشریف کی وطن واپسی کو ڈیل اور نیا لاڈلہ پلس کے الزامات عائد کر رہی ہے اورلیول پلائنگ فیلڈ نہ ملنے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ منگل کو میاں نوازشریف کی دو عدالتوں میں حاضری کی وجہ سے پورے میڈیا کا فوکس ان پر رہا اور جس نوازشریف کو احتساب عدالت کے معروف جج محمد بشیر نے دس سال کی سزا سنائی تھی آج وہی جج توشہ خانہ کے کیس میں نوازشریف کو ضمانت دینے پر رضا مند تھا اور نوازشریف کو سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جب کچھ نہ ملا تو 2017 میں بلاک لاء ڈکشنری اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے الزام میں نااہل کیا اور بعد ازاں پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی بھی لگائی ۔ اب حالات و واقعات بدل چکے ہیں ، اہم عہدوں پر تبدیلیاں آتے ہی فضا نوازشریف کے حق میں ہموار ہو چکی ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل احسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر کے رویئے اور پھرتی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیئے کہ کیا یہ وہی پانچ سال پہلے والا نیب ہے یا نیا نیب ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ نیب کو نوازشریف کو گرفتار کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو ہائیکورٹ کے بینچ نے کہاکہ ہم فیصلہ کر دیتے ہیں لیکن اس سے پہلے عدالت کو اس بات پر مطمئن کرنا ہو گا کہ ملزم نوازشریف چار سال تک عدالت سے کیوں غیر حاضر رہے ، کیوں پیش نہیں ہوئے ان کی العزیہ کیس میں سزا کی معطلی محدود مدت کے لئے تھی ہم قانون کے مطابق چلیں گے ججز نے نوازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور نیب کے پراسیکیوٹر سے بعض سخت سوالات بھی کئے لیکن اصل بات یہ تھی کہ نیب نے جب یہ کہا کہ نوازشریف کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے تو ان کی حفاظتی ضمانت میں 26اکتوبر تک توسیع کر دی گئی اور نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا کہ وہ 26اکتوبر کو دلائل دے ۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے بھی کریمنل پروسیجر کی سیکشن 401کا سہارا لیتے ہوئے نوازشریف کی سزا کو ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل معطل کر دیا اور کابینہ سے اس کی منظوری لی گئی یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں نوازشریف کی پیشی سے قبل کیا گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہائی کورٹ نوازشریف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دے ، اگر ایسا حکم دیا جاتا تو پنجاب حکومت کی طرف سے سزا معطل کرنے کا فیصلہ عدالت میں پیش کیا جانا تھا، بہر حال میاں نوازشریف کے کامیاب جلسے اور عدالتوں میں ریلیف ملنے کے بعد یہ بات اور پختہ ہو رہی ہے کہ وہ اگلے وزیراعظم ہیں اور الیکشن کی تاریخ بھی جلد آنے والی ہے ۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی جسے پنجاب میں کوئی حصہ نہیں مل رہا کیونکہ تحریک انصاف سے علیحدہ ہونے والے تمام رہنما استحکام پاکستان پارٹی میں جارہے ہیں اور بلاول بھٹو کے وزیراعظم بنے کی خواہش فی الحال لگتا ہے خواہش ہی رہے گی ، اس لئے پیپلزپارٹی کے رہنمائوں نے نوازشریف کی وطن واپسی پرالزام تراشی شروع کر دی ہے اور نوازشریف کو لاڈلہ پلس ہونے کے طعنے دیئے جارہے ہیں اس سے پہلے بلاول بھٹو عمران خان کو لاڈلہ کہا کرتے تھے ۔ ایک لحاظ سے عمران خان اب بھی کسی حد تک لاڈلہ ہے کیونکہ ماضی میں کسی بھی سیاسی رہنما کو جیل میں واک کرنے کی اجازت دینے کے لئے جیل کی دیواریں نہیں توڑی گئیں اور نہ ہی کسی کو ورزش کے لئے سائیکل فراہم کی گئی ۔جہاں تک لیول پلائنگ فیلڈ نہ ملنے کی باتیں ہو رہی ہیں اس پر سب سے اہم تبصرہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کیا ہے اوران کا یہ کہنا کہ جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ لیول پلائنگ فیلڈ نہیں ہے کیا وہ 2018کو بھول گئے ہیں جب جنوبی پنجاب محاذ بنایا گیا تھا ۔نگران وزیراعظم کی یہ بات اس لئے بھی مصدقہ لگتی ہے کیونکہ باپ پارٹی کے وہ بانی رہنما ہیں اور اس کے ترجمان رہ چکے ہیں اور وہی ترجمانی انہیں وزارت عظمیٰ تک پہنچنے میں مدد گار ثابت ہوئی اور 2018کے انتخابات میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی تین سیاسی جماعتیں تھیں جن میں نمبر ون تحریک انصاف تھی اور اس کے علاوہ پیپلزپارٹی اور باپ پارٹی کی سرپرستی کی گئی تھی اور وزیراعظم کا یہ بیان ایک سلطانی گواہ کے بیان کے مترادف ہے ۔ سیاسی حالات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کسی بھی وقت اب الیکشن کمیشن انتخابات کی باضابطہ تاریخ کا اعلان کر دے گا اس وقت الیکشن کمیشن 28جنوری 2024کے علاوہ فروری کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرانے پر مشاورت کر رہا ہے ، کیونکہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنما بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں جنوری میں سرد موسم اور برف باری کے باعث الیکشن کی تاریخ آگے بڑھانے کے مطالبات کر رہے ہیں ۔
تجزیہ
نواز شریف لاڈلہ پلس،پیپلزپارٹی کانیاالزام،نگران وزیراعظم کی جنوبی پنجاب محاذبننے کی گواہی








