سپریم کورٹ آف پاکستان میں لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں پی ٹی آئی کی توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت شروع ہو گئی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہو گئے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ آپ نے درخواست کے جواب میں آئی رپورٹ پڑھی؟ کوئی تقریر نہیں صرف بتائیں اس رپورٹ میں کیا غلط ہے؟
PTI کے 76 فیصد کاغذات منظور، لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے کے الزامات بے بنیاد، سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا، الیکشن کمیشن
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے 1195 لوگوں نے کاغذات جمع کروائے، ہمارے سامنے چیف سیکریٹری اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ان رپورٹس کو جھٹلا رہے ہیں تو جواب میں تحریری طور پر کچھ لانا ہو گا، کھوسہ صاحب! آپ یہاں کھڑے ہو کر رپورٹ کو مسترد نہیں کر سکتے، اگر الیکشن کمیشن نے غلط بیانی کی ہے تو آپ تحریری جواب جمع کروائیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کے کسی فرنٹ لائن امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور نہیں ہوئے۔
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اپنے جواب میں خود کہہ رہے ہیں کہ ٹریبونلز نے آپ کو ریلیف دیا۔
کیا PTI چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذاتِ نامزدگی منظور ہو جائیں؟
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کیا یہ چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذاتِ نامزدگی منظور ہو جائیں؟ جو چاہتے ہیں وہ بتا دیں، یہ قانون کی عدالت ہے، زبانی تقریر سے نہیں چل سکتی۔
پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا خط دیکھیں۔
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کا اپنا الیکشن سیل ہے تو آپ کے پاس اعداد و شمار کیوں نہیں؟
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تا کہ کر دیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نہ روئیں۔









