وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ نان فائلرز کے لئے ٹیکس 45 فیصد تک لے گئے ہیں کیونکہ نان فائلر کی اختراع ہی ختم کرنا چاہتے ہیں، کوئی ملک شاید ہی ہو جہاں نان فائلرکی اصطلاح ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل جاری ہے، پیٹرولیم لیوی پر 60 سے 80 روپے کی تجویز ہے، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ پر 6 لاکھ روپے انکم ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی ہے، نان سیلریڈ کلاس میں پروفیشنل کمیونٹی ہے، اس کےلئے ٹیکس 45 فیصد کیا ہے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اپریل میں درخواست کی کہ تاجر خود کو رجسٹرڈ کروائیں، یہ رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کا طریقہ تھا، 31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے، اپریل میں درخواست کی کہ تاجر خود کو رجسٹرڈ کروائیں، یہ رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کا طریقہ تھا، 31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی چارہ نہیں کہ ان سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، جولائی سے ریٹیلرز اور ہول سیلرز پرٹیکس لگے گا، اس وقت 90کھرب روپے نقد زیر گردش ہیں، نقد کی ٹرانزکشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وزیر خزانہ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 3.5ارب ڈالر آئی ٹی کی برآمدات ہیں، ایس ایم ایز کے لئے مطلوبہ فنانسنگ میسر نہیں ہوئی۔









