بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

27ویں آئینی ترمیم لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج،وزیراعظم سمیت دیگرفریق

لاہور(نیوزدیسک) 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، درخواست میں وزیراعظم کو بذریعہ سیکرٹری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کے خلاف ہے ،صوبوں کی مشاورت کے بغیر ترمیم سے آئینی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ترمیم کے تحت استثنیٰ آئین کے بنیادی آئین کے ہی خلاف ہے، ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی ہے جب کہ ترمیم سے عدالتی اختیارات کم کر کے عدالتی آزادی کو خطرے میں ڈال دیا گیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت مقدمات کی آئینی عدالت منتقلی کو کالعدم قرار دے، 27 ویں آئینی ترمیم کی شقوں کو ماورائے آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم دیا جائے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

واضح رہے کہ سینیٹ میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان اور تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ووٹ کی بدولت حکومت دو تہائی اکثریت سے 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا جب کہ جے یو آئی (ف) نے احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے جس کی جلد منظوری کا امکان ہے۔ ترمیم کے بل کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جو حکومتی اتحاد کے پاس موجود ہے جب کہ حزب اختلاف کے پاس محدود تعداد میں ارکان ہیں۔

حکومتی اتحاد میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ضیا)، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی شامل ہیں۔