بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت کا جینا حرام کردینگے، اپوزیشن کا احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) اپوزیشن اتحاد نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا جینا حرام کردیں گے اور تمام غیرملکی سفیروں کو خطوط لکھیں گے کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے ہیں وہ ختم کردیں۔محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن ارکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کو ہم تحریک کا آغاز کریں گے، ہم احتجاج کریں گے اور ایک پتھر بھی نہیں ماریں گے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکوں کے سفیروں سے بات کریں گے، ان کو خطوط لکھیں گے اور ان کو کہیں گے کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے ہیں وہ ختم کر دیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ کہتا ہے کہ 45 فیصد لوگ غربت کی لائن سے نیچے ہیں، کیا آسمان گرتا اگر آج اجلاس ملتوی کر دیتے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے کہا کہ دنیا کے خطرناک ممالک ہمیں لڑانا چاہتے ہیں، ہمیں جنگ کا راستہ روکنا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کا آئین بالادست ہو گا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی، تمام صوبوں کی معدنیات پر پہلا حق اسی صوبے کا ہو گا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو بھی مذاکرات کرنے ہیں ہم تیار ہیں، ہم آپ کا جینا حرام کر دیں گے اور ہم عدلیہ کے ججوں سے درخواست کرتے ہیں، آپ ایک قلم سے اس سب کو فارغ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے ہمارے مذاکرات ہوں گے اور مذاکرات یہ ہوں گے کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کریں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا لیکن ہم چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا تشخص اور اختیارات واپس لائیں گے، اس بل میں عدالتی اختیارات کا زبردست کٹاؤ کیا گیا، عدلیہ کی اصلاح لازمی ہے لیکن ججوں کے ساتھ اپنایا گیا رویہ ناقابل قبول ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسمبلی میں پوائنٹ آؤٹ کیا کہ چیف جسٹس کا عہدہ ختم ہوا ہے، موجودہ ترامیم آئین کی روح کے منافی ہیں اور آئینی تعریفوں میں نئی کلاز شامل کر دی گئی اور اس ترمیم نے چیف جسٹس کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔