بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بسنت سے قبل لاہور میں 346 عمارتیں خطرناک قرار، والڈ سٹی اتھارٹی کی ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع

لاہور میں بسنت کے تناظر میں پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس میں شہر کی خستہ حال عمارتوں سے متعلق تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بسنت سے قبل والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور کے مختلف علاقوں میں خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا جامع سروے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 346 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے 183 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 163 قابلِ مرمت ہیں۔
اتھارٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انتہائی خستہ حال 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، تاہم 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں جنہیں مختلف وجوہات کی بنا پر خالی نہیں کروایا جا سکا۔ ان آباد عمارتوں میں 103 ناقابلِ مرمت جبکہ 151 قابلِ مرمت قرار دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خالی کروائی گئی عمارتوں میں سے 80 عمارتیں مسمار کرنے کے قابل ہیں جبکہ 12 کی مرمت ممکن ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق ان خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت کی سرگرمیوں، خصوصاً پتنگ بازی، کے لیے غیر محفوظ ہیں اور کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
اتھارٹی نے غیر محفوظ چھتوں کے استعمال پر پابندی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن کے تحت وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں تاکہ بسنت کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سے سفارش کی گئی ہے کہ خطرناک عمارتوں اور چھتوں کے حصے سیل کیے جائیں، جبکہ بسنت کے موقع پر سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پولیس اور پیرا فورس تعینات کی جائے۔