سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر 10 ہزار روپے جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا، جو ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروائے جائیں گے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ “طلبہ یونین کی بحالی کی ضرورت کیوں ہے؟ تعلیم کا معیار پہلے ہی متاثر ہو رہا ہے، آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟”
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کا مقصد اور فوائد کیا ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ “کیا آپ فیکٹریوں میں مزدور یونین کی طرح وائس چانسلرز کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں؟”
مزید پوچھا گیا کہ “درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ ابھی بھی طالب علم ہیں؟”
عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں طلبہ یونین کی بحالی مناسب نہیں سمجھی جا رہی۔
سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کر دی








