سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ایک اہم خارجی دہشت گرد نے دورانِ تفتیش افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے روابط سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
ملزم عامر سہیل عرف مولوی حیدر، جو فتنۃ الخوارج کا ایک سرغنہ بتایا جاتا ہے، نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوا۔ اس نے بتایا کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک مرکز میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی، جہاں مبینہ طور پر مختلف گروہوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں:باجوڑ، افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری، 3 افراد شہید، پاک فوج کی موثر کارروائی
دورانِ تفتیش، گرفتار دہشت گرد نے دعویٰ کیا کہ اس تنظیم کے روابط دیگر شدت پسند گروہوں سے بھی رہے ہیں اور اسے بیرونی ذرائع سے مالی معاونت حاصل ہوتی رہی۔ اس کے مطابق، اس کے گروہ میں غیر ملکی عناصر بھی شامل تھے اور وہ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا۔
ملزم نے مزید بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کے لیے آتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ تنظیم کا مذہب یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مالی مفادات کے لیے سرگرم ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ان بیانات سے خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور سرحد پار روابط کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔








