ایوان بالا (سینیٹ) میں الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل متفقہ منظور کرلیا گیا ۔
چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔ جس پر چیئرمین نے ووٹنگ کروائی۔
اپوزیشن کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی، اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ نہ کہا جائے قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا ہے تو ہم بھی کردیں، یہ لوگ کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں، یہ قانون بدنیتی پر مبنی ہے، ایوان کا مذاق مت اڑائیں، سینیٹ کے ممبران کا حق ہے وہ بل کا جائزہ لیں، اس بل کو قائمہ کمیٹی بھجوائے بغیر منظور نہ کیا جائے۔
شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے دور میں اگر ایسا ہوا ہے تو نہیں ہونا چاہیے تھا اس وقت کے چئیرمین آن بورڈ ہونگے، امید ہے آپ بطور چئیرمین ایسا نہیں کرینگے، ہمیں ربڑ سٹیمپ مت بنائیں، اس بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، اگر بل اچھا ہوا تو سپورٹ کرینگے۔
تاہم، ایوان نے الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل متفقہ طور پر ایوان سے منظور کیا۔
اس کے علاوہ واپڈا یونیورسٹی بل 2024 پر چئیرپرسن قائمہ کمیٹی تعلیم بشریٰ بٹ نے رپورٹ پیش کی، جبکہ چئیرمین قائمہ کمیٹی مواصلات پرویز رشید نے نیشنل ہائی ویز سیفٹی ترمیمی بل پر رپورٹ پیش کردی۔
اس کے علاوہ اجلاس میں حیدر آباد سکھر موٹروے کی عدم تکمیل پر رپورٹ پیش کی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2024 بھی ایوان سے پاس ہوا، قومی اسمبلی پہلے ہی یہ بل منظور کرچکی ہے۔
الیکشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل سینیٹ سے منظور








