نیشنل ورکشاپ بلوچستان (National Workshop Balochistan) کے 92 رکنی وفد نے پشاور کا دورہ کیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات شامل تھے۔ اس دورے کا مقصد شرکاء کو خیبرپختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔
پشاور میں قیام کے دوران وفد کو سکیورٹی اداروں کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے کس طرح مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفد نے کور کمانڈر پشاور سے بھی ملاقات کی، جہاں قومی اور علاقائی سلامتی کے اہم امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دورے کے دوران وفد نے گورنر ہاؤس، قلعہ بالا حصار میوزیم اور یادگارِ شہداء کا بھی دورہ کیا۔ یادگارِ شہداء پر حاضری دیتے ہوئے شرکاء نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
مزید پڑھیں:پی ایچ ایف کا سینئر، جونیئر اور انڈر 18 ٹیموں کیلیے نئے مینجمنٹ پینلز کا اعلان
وفد کے شرکاء نے اپنے تاثرات میں کہا کہ انہیں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور زمینی حقائق کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جو ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مثبت تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور نہ صرف ملکی دفاع میں مصروف ہیں بلکہ تعلیم، صحت اور کھیلوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
شرکاء نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کے حوالے سے جو پیش رفت انہوں نے دیکھی، وہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے تاثر سے خاصی مختلف اور حوصلہ افزا ہے۔ ان کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک کے چپے چپے کے دفاع کو یقینی بنایا۔
وفد نے اس دورے کو انتہائی معلوماتی اور مفید قرار دیتے ہوئے پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔









